مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤١٩٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين (عن) (١) عمر بن جاوان عن الأحنف بن قيس قال: قدمنا المدينة فجاء عثمان (فقيل: هذا عثمان) (٢)، فدخل ⦗٣٨⦘ عليه (ملية) (٣) له صفراء قد قنع بها رأسه، قال: هاهنا علي؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا طلحة؟ قالوا نعم، قال: هاهنا الزبير؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا سعد، قالوا: نعم، قال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو، (أتعلمون) (٤) أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من يبتاع (مربد) (٥) بني فلان غفر اللَّه (له) (٦) "، فابتعته بعشرين ألفًا أو خمسة وعشرين ألفًا فأتيت النبي ﷺ فقلت: قد ابتعتُه، فقال: "اجعله في مسجدنا وأجره لك"، قال: فقالوا: اللهم نعم، قال: فقال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو أتعلمون أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من يبتاع بئر رومة غفر اللَّه له"، فابتعتها بكذا وكذا ثم أتيته فقلت قد ابتعتها، فقال: "اجعلها سقاية للمسلمين وأجرها لك" (٧)، قالوا: اللهم نعم، قال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو، أتعلمون أن رسول اللَّه ﷺ نظر في وجوه القوم فقال: "من (جهز) (٨) هولاء غفر اللَّه له"، -يعني جيش العسرة- فجهزتهم حتى لم يفقدوا عقالًا ولا خطامًا؟ قالوا: اللهم نعم، قال: قال: اللهم اشهد -ثلاثًا (٩).حضرت عمر بن جاوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ مدینہ میں تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ کہا گیا کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ کی چادر تھی جس سے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر ڈھانپا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو جو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ جو شخص فلاں قبیلہ کے اونٹ کا باڑ ا خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے تو میں نے وہ باڑا بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خریدا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : تحقیق میں نے وہ باڑا خرید لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس جگہ کو ہماری مسجد کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر وثواب تمہیں ملے گا ؟ راوی کہتے ہیں : ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر کہا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دیتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں : کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے متعلق جانتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رومہ میٹھے پانی کا کنواں خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے۔ تو میں نے اس کنویں کو اتنے اور اتنے روپوں میں خریدا ، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : تحقیق میں نے اس کو خرید لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر تمہیں ملے گا ؟ راوی کہتے ہیں : ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو جانتے ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہ کون شخص ہے جو ان لوگوں کے سفر کا سامان مہیا کرے گا ۔ اللہ اس شخص کی مغفرت فرما دیں گے۔ یعنی غزوہ تبوک میں۔ تو میں نے ان سب کے لیے سامان مہیا کیا یہاں تک کہ ان لوگوں کو اونٹ کی نکیل اور اونٹ کے پیر کی رسی کی بھی کمی نہیں ہوئی ؟۔ ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ رہ۔