مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 34189
٣٤١٨٩ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا الصلت بن بهرام عن سيار (أبي) (١) الحكم أن أبا بكر لما ثقل أطلع (رأسه) (٢) إلى الناس من كوة فقال: يا أيها الناس إني قد عهدت عهدًا، أفترضون به؟ فقام الناس فقالوا: قد رضينا، فقام علي فقال: لا نرضى إلا أن يكون عمر بن الخطاب، فكان عمر (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلت بن بھرام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیار ابو الحکم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری جب بڑھ گئی تو وہ روشن دان سے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے : اے لوگو ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کیا تم لوگ اس سے خوش ہوے ؟ پس لوگ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ ہم راضی نہیں ہوں گے مگر یہ کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں۔ تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (ابن).
(٢) في [أ، ب]: (برأسه).
(٣) منقطع؛ سيار لم يدرك وفاة أبي بكر.