مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
٣٤١٨٤ - حدثنا وكيع عن هارون بن أبي إبراهيم عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير قال: دخل ابن عباس على عمر حين طعن فقال له: يا أمير المؤمنين، إن كان إسلامك لنصرا، وإن (كانت) (١) إمارتك لفتحًا، واللَّه لقد ملأت الأرض عدلا حتى إن الرجلين ليتنازعان فينتهيان إلى أمرك، قال عمر: أجلسوني، فأجلسوه، قال: رد علي كلامك، قال: فرده عليه، قال: فتشهد لي بهذا الكلام (٢) يوم تلقاه؟ قال: نعم، قال: فسر ذلك عمر وفرح (٣).حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا گیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے امیر المؤمنین : یقینا آپ کا اسلام مسلمانوں کی مدد ثابت ہوا، اور آپ کی خلافت مسلمانوں کی فتح۔ اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ نے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ یہاں تک کہ اگر دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوتا تو وہ دونوں آپ کی طرف اپنا معاملہ سونپ دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگو مجھے بٹھا دو ۔ پس لوگوں نے ان کو بٹھایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ پر دوبارہ اپنی بات دہراؤ ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دوبارہ اپنی بات دہرائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم اس بات کی اس دن گواہی دو گے جب تم اپنے رب سے ملو گے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں ۔ اس بات سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسرور ہوئے اور بہت خوش ہوئے۔