حدیث نمبر: 34183
٣٤١٨٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن معروف بن أبي معروف الموصلي قال: لما أصيب عمر سمعنا صوتا: (لبيك) (١) علي الإسلام من كان باكيا … فقد أوشكوا (هلكي) (٢) وما قدم العهد و (أدبرت) (٣) (الدنيا) (٤) وأدبر خيرها … وقد ملها من كان (يوقن) (٥) بالوعد
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معروف بن ابی معروف الموصلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو ہم لوگوں نے ایک آواز سنی جو یہ اشعار پڑھ رہی تھی : : اسلام پر ہر رونے والے کو رونا چاہیے۔ وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئے۔ وہ ابھی بہت زمانہ نہیں گزرا۔ دنیا ختم ہوگئی اور دنیا کا بہترین شخص چلا گیا۔ جو اس کے وعدوں کا یقین رکھتا تھا آج پریشان ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (لبيك).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (هلكًا).
(٣) في [هـ]: (أدرت).
(٤) في [أ]: (الدنى).
(٥) في [أ، ب، جـ]: (يرفد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34183
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34183، ترقيم محمد عوامة 32677)