حدیث نمبر: 34175
٣٤١٧٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن عبد الملك بن عمير عن الصقر ابن عبد اللَّه عن عروة بن الزبير عن عائشة: إن الجن بكت على عمر قبل أن يقتل بثلاث فقالت: أبعد قتيل بالمدينة أصبحت … له الأرض تهتز العضاة بأسوق جزى اللَّه خيرا من أمير وباركت … يد اللَّه في ذاك الأديم الممزق ⦗٣٣⦘ فمن يسمع أو يركب (جناحي نعامة) (١) … ليدرك ما (أسديت) (٢) (بالأمس) (٣) (يسبق) (٤) قضيت امورا ثم غادرت بعدها … بوائق في أكمامها لم تفتق وما كنت أخشى أن تكون وفاته … (بكفي) (٥) (سبنتي) (٦) أخضر العين (مطرق) (٧) (٨)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ جن بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے تین دن قبل رو پڑے اور یہ اشعار کہے : : مدینہ منورہ میں شہید ہونے والے کی جدائی پر زمین اپنے عضاء نامی درخت کے ساتھ کانپ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے جسم میں برکت عطا فرمائے۔ اگر کوئی سواری پر سوار ہو کر آپ کے کارناموں کو دہرانا چاہے تو ایسا نہیں کرسکتا۔ آپ کے فیصلے خوشوں کے پھل کی طرح عمدہ ہیں۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ان کی وفات نیلی آنکھوں والے مکار درندے (ابولؤلؤ) کے ہاتھوں ہوگی۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (جناحين عامة).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (اشتدت)، وفي [هـ]: (قدمت).
(٣) في [جـ]: (الأمس).
(٤) في [أ، ب]: (يستقي).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب، جـ]: (شتيتًا).
(٧) في [أ، ب]: (مفتقي).
(٨) مجهول؛ لجهالة الصقر بن عبد اللَّه، وأخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٨٧)، وابن شبه (١٤٧٩)، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٨٥، واللالكائي (٢٥٤٥)، والخلال في السنة (٣٩٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34175
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34175، ترقيم محمد عوامة 32669)