مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
٣٤١٧٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن عبد الملك بن عمير عن الصقر ابن عبد اللَّه عن عروة بن الزبير عن عائشة: إن الجن بكت على عمر قبل أن يقتل بثلاث فقالت: أبعد قتيل بالمدينة أصبحت … له الأرض تهتز العضاة بأسوق جزى اللَّه خيرا من أمير وباركت … يد اللَّه في ذاك الأديم الممزق ⦗٣٣⦘ فمن يسمع أو يركب (جناحي نعامة) (١) … ليدرك ما (أسديت) (٢) (بالأمس) (٣) (يسبق) (٤) قضيت امورا ثم غادرت بعدها … بوائق في أكمامها لم تفتق وما كنت أخشى أن تكون وفاته … (بكفي) (٥) (سبنتي) (٦) أخضر العين (مطرق) (٧) (٨)حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ جن بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے تین دن قبل رو پڑے اور یہ اشعار کہے : : مدینہ منورہ میں شہید ہونے والے کی جدائی پر زمین اپنے عضاء نامی درخت کے ساتھ کانپ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے جسم میں برکت عطا فرمائے۔ اگر کوئی سواری پر سوار ہو کر آپ کے کارناموں کو دہرانا چاہے تو ایسا نہیں کرسکتا۔ آپ کے فیصلے خوشوں کے پھل کی طرح عمدہ ہیں۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ان کی وفات نیلی آنکھوں والے مکار درندے (ابولؤلؤ) کے ہاتھوں ہوگی۔