حدیث نمبر: 34160
٣٤١٦٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "دخلت الجنة (فإذا) (١) فيها قصر من ذهب فأعجبني حسنه، فسألت لمن هذا؟ فقيل لي: لعمر، فما منعني أن أدخله إلا لما أعلم من غيرتك يا أبا حفص"، فبكى عمر وقال: يا رسول اللَّه (عليك) (٢) أغار (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو اس میں میں نے ایک سونے کا محل دیکھا جس کی خوبصورتی مجھے بہت اچھی لگی ۔ پس میں نے پوچھا : یہ کس کے لیے ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا : عمر بن خطاب کے لیے۔ پس مجھے کسی بات نے بھی نہیں روکا اس میں داخل ہونے سے مگر یہ کہ مجھے اے ابو حفص تیری غیرت کا خیال آیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غیرت کھاؤں گا ؟ !

حواشی
(١) في [هـ]: (وإذا).
(٢) في [أ، ب]: (أعليك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34160
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمر صدوق، وأخرجه البخاري (٣٢٤٢)، ومسلم (٢٣٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34160، ترقيم محمد عوامة 32655)