حدیث نمبر: 34159
٣٤١٥٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أنس عن النبي ﷺ قال: "دخلت الجنة فإذا أنا بقصر من ذهب، فقلت: لمن (هذا؟) (١) قالوا: لشاب من قريش، فظننت أني أنا هو، فقلت: لمن هو؟ قالوا: لعمر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے ایک خوبصورت سونے سے بنا ہوا محل دیکھا تو میں نے پوچھا : یہ کس کا گھر ہے ؟ فرشتوں نے کہا : قریش کے ایک نوجوان کا۔ پس میں نے گمان کیا کہ یقینا وہ میں ہی ہوں گا ، تو میں نے پوچھا : وہ کون سا نوجوان ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر بن خطاب ۔

حواشی
(١) في] م]: (هذه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34159
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه أحمد (١٢٠٤٦)، والترمذي (٣٦٨٨)، والنسائي في الكبرى (٧١٢٧)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٦٦)، وأبو يعلى (٣٨٦٠)، وابن حبان (٦٨٨٧)، والطحاوي في شرح المشكل (١٩٥٧)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٢٥٧، والضياء في المختارة (٢٠٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34159، ترقيم محمد عوامة 32654)