مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
٣٤١٥٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم بن (أبي) (١) النجود عن (زر) (٢) عن عبد اللَّه قال: إذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر إن إسلامه كان نصرًا، وإن إمارته كانت فتحًا، وأيم اللَّه ما أعلم على الأرض شيئًا (٣) إلا وقد وجد فقد ⦗٢٧⦘ عمر حتى (العضاه) (٤)، وأيم اللَّه إني لأحسب (أن) (٥) بين عينيه ملكا يسدده ويرشده، (وأيم اللَّه إني لأحسب الشيطان يفرق أن يحدث في الإسلام فيرد عليه عمر) (٦)، وأيم اللَّه لو أعلم أن كلبا يحب عمر لأحببته (٧).حضرت زر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے نیکو کاروں کا ذکر کیا جاتا تو وہ فوراً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نعرہ لگاتے۔ اور فرماتے ! یقینا ان کا اسلام مسلمانوں کی مدد تھی اور ان کی خلافت مسلمانوں کی فتح تھی۔ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا زمین پر کسی چیز کو مگر یہ کہ ہر چیز نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کمی محسوس کی یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں نے بھی۔ اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں گمان کرتا تھا کہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو ان کو سیدھی راہ دکھاتا ہے اور ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ اور اللہ کی قسم ! بلاشبہ شیطان خوف کھاتا تھا اس بات سے کہ وہ اسلام میں کوئی رخنہ ڈالے اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو اس پر واپس لوٹا دیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کوئی کتا بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو میں اس سے بھی محبت کرنے لگوں۔