حدیث نمبر: 34137
٣٤١٣٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر قال: حدثنا أبو بكر بن سالم عن سالم بن عبد اللَّه بن عمر عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال: " (أريت) (١) في النوم كأني (أنزع) (٢) بدلو بكرة على قليب، فجاء أبو بكر فنزع ذنوبًا أو ذنوبين (فنزع نزعًا ضعيفًا) (٣) واللَّه يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب (فاستسقى) (٤) فاستحالت غربًا، فلم أر عبقريًا من الناس يفري فريه، حتى روى الناس وضربوا بالعطن" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے خواب میں دکھلایا گیا : گویا کہ میں کنویں پر چرخی سے ڈول کھینچ رہا ہوں پس ابوبکر آئے پھر انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے اور انہوں نے بہت کمزوری سے ڈول کھینچا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے ، پھر عمر بن خطاب آیا پس اس نے پانی نکالا یہاں تک کہ چمڑے کا ڈول ٹیڑھا ہوگیا ۔ پس میں نے ایسا کوئی زورآور شخص نہیں دیکھا جو عمر رضی اللہ عنہ جیسا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔ اور وہ سب لوگ پانی کے پاس بیٹھ گئے۔

حواشی
(١) في [ب]: (أرأيت).
(٢) في [أ، ب]: (انزح).
(٣) في [أ، ب]: (فيهما ضعف).
(٤) في [م]: (فاستقى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦٨٢)، ومسلم (٢٣٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34137، ترقيم محمد عوامة 32632)