مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في أبي بكر الصديق ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤١٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد قال: ذكر (رجلان عثمان) (١) ⦗١٩⦘ فقال أحدهما: قتل شهيدًا، فتعلق به الآخر فأتى به عليا فقال: (إن) (٢) هذا يزعم أن عثمان بن عفان قتل شهيدًا، قال: قلت: (ذلك؟) (٣) قال: نعم، أما تذكر يوم أتيت النبي ﷺ وعنده أبو بكر وعمر وعثمان فسألت النبي ﷺ فأعطاني، وسألت أبا بكر فأعطاني، وسألت عمر فأعطاني، وسألت عثمان فأعطاني، فقلت: يا رسول اللَّه ادع اللَّه أن يبارك لي قال: "ومالك لا يبارك لك وقد أعطاك نبي وصديق وشهيدان" فقال علي: دعه دعه دعه (٤).حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا پس ان میں سے ایک کہنے لگا۔ ان کو شہید کردیا گیا ، تو دوسرا اس کو پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا اور کہنے لگا : بلاشبہ یہ شخص کہتا ہے کہ یقینا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تھا ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے یہ کہا ہے ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! کہا آپ رضی اللہ عنہ کو یاد نہیں وہ دن جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ م آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا کیا۔ پس میں نے عرض کی۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے لیے برکت کی دعا فرما دیجئے اللہ مجھے برکت عطا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھے برکت کیوں نہیں دی جائے گی حالانکہ تجھے ایک نبی، اور ایک صدیق اور دو شہیدوں نے عطا کیا ہے ؟ ! پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ، اس کو چھوڑ دو ، اس کو چھوڑ دو ۔