مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في أبي بكر الصديق ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤١٢٩ - حدثنا قبيصة عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: وفدنا إلى معاوية، قال: فما أُعجب بوفد ما أعجب بنا، فقال: يا أبا بكرة حدثني بشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول، وكانت تعجبه الرؤيا يسأل عنها فسمعته يقول: "رأيت ميزانا (أنزل) (١) من السماء فوزنتُ فيه أنا وأبو بكر فرجحت بأبي بكر، ثم وزن أبو بكر وعمر فرجح أبو بكر، ثم وزن عمر وعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان إلى السماء"، فقال رسول اللَّه ﷺ: "خلافة (و) (٢) نبوة ثم يؤتي اللَّه الملك من يشاء"، قال: (فزج) (٣) في أقفيتنا فأخرجنا (٤).حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی صورت میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے کوئی وفد اتنا پسند نہیں آیا جتنا ہمارا وفد پسند آیا۔ پھر فرمایا : اے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ! مجھے کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ جب ان سے خوابوں کے بارے میں پوچھا جاتا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے ایک ترازو دیکھا جو آسمان سے اترا، پس اس میں میرا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو میر پلڑا ابوبکر سے بھاری ہوگیا۔ پھر ابوبکر کا عمر کے ساتھ وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ پھر عمر اور عثمان کا وزن کیا گیا تو عمر کا پلڑا عثمان پر بھاری ہوگیا۔ پھر ترازو کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خلافت اور نبوت ہوگی پھر اللہ جس کو چاہیں گے ملک عطا فرما دیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پس ہمیں گدی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔