حدیث نمبر: 34126
٣٤١٢٦ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا إسماعيل عن قيس قال: قال (عمرو: وأي) (١) الناس أحب إليك يا رسول اللَّه؟ قال: " (لم) (٢) "؟ قال: (لنحب) (٣) من تحب، قال: "أحب الناس إليّ عائشة"، قال: لست أسألك عن النساء، إنما أسألك ⦗١٧⦘ عن الرجال فقال (مرة: "أبوها"، وقال مرة: "أبو بكر") (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : تاکہ ہم بھی اس سے محبت رکھیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ پسند ” عائشہ رضی اللہ عنہا “ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں سے متعلق نہیں پوچھ رہا بلکہ میں مردوں میں سے پوچھ رہا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا : ان کے والد اور ایک مرتبہ فرمایا : ” ابوبکر رضی اللہ عنہ “

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عمر: وأي)، وفي [م]: (عمر أي).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ق، م، هـ]: بياض.
(٣) في [أ، ب]: (لتحب).
(٤) في [أ، ب]: (تقديم وتأخير).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34126
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه الحاكم ٤/ ١٢، وابن عساكر ٣٠/ ١٣٥، وابن سعد ٨/ ٦٧، وأحمد في فضائل الصحابة (٦٧٢)، وقد أخرجه متصلًا من حديث عمرو بن العاص ابن حبان (٧١٠٦)، والنسائي (٨١٠٦)، والترمذي (٣٨٨٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٨٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34126، ترقيم محمد عوامة 32621)