مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يصلي (بعض) صلاته لغير القبلة، من قال: (يعتد بها) باب: ایک آدمی قبلے کے علاوہ کسی اور طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے اور اسے بعد میں علم ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3411
٣٤١١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا النضر بن عربي قال: سمعت مجاهدا يقول: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [البقرة: ١١٥] قال: قبلة اللَّه (وأينما) (١) كنتم من شرق (أو) (٢) غرب فاستقبلوها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی اس آیت میں { فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ } وجہ اللہ سے مراد ہے قِبْلَۃُ اللہِ ، پس تم مشرق ومغرب میں جہاں کہیں بھی نماز پڑھو تم نے قبلے کی طرف رخ کرنا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ، د، ك] (فأينما).
(٢) في [جـ، ك]: (أو)، وفي بقية النسخ: (و).