مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يصلي (بعض) صلاته لغير القبلة، من قال: (يعتد بها) باب: ایک آدمی قبلے کے علاوہ کسی اور طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے اور اسے بعد میں علم ہو تو وہ کیا کرے؟
٣٤٠٩ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث بن سعد عن عقيل عن ابن شهاب: أنه سئل (عن) (١) قوم صلوا في يوم غيم إلى غير القبلة، ثم استبانت القبلة وهم في ⦗٢٣٦⦘ الصلاة، فقال: يستقبلون القبلة و (يعتدون) (٢) (بما) (٣) صلوا، وقد فعل (ذلك) (٤) أصحاب رسول اللَّه ﷺ حين أمروا أن يستقبلوا الكعبة وهم في الصلاة يصلون إلى بيت المقدس، فاستقبلوا الكعبة، فصلوا بعض تلك الصلاة (إلى) (٥) بيت المقدس (وبعضها) (٦) إلى الكعبة (٧).حضرت عقیل کہتے ہیں کہ حضرت ابن شہاب سے سوال کیا گیا کہ اگر بارش کے دن لوگ قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف رخ کرکے نماز پڑھ لیں اور حالت نماز میں معلوم ہوجائے کہ قبلہ کسی دوسری طرف ہے تو وہ کیا کریں ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ قبلے کی طرف رخ کرلیں اور جو نماز وہ پڑھ چکے ہیں اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ خانہ کعبہ کو قبلہ بنالیں تو انہوں نے بھی یونہی کیا تھا۔ حالانکہ پہلے وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ رہے تھے۔ اس حکم کے بعد انہوں نے کعبہ کی طرف رخ کرلیا تھا، گویا کہ انہوں نے کچھ نماز بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی اور کچھ نماز خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے ادا کی۔