مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يصلي (بعض) صلاته لغير القبلة، من قال: (يعتد بها) باب: ایک آدمی قبلے کے علاوہ کسی اور طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے اور اسے بعد میں علم ہو تو وہ کیا کرے؟
٣٤٠٨ - حدثنا شبابة قال: حدثنا قيس عن (زياد) (١) بن علاقة عن عمارة بن أوس قال: كنا نصلي إلى بيت المقدس إذ أتانا آت وإمامنا راكع ونحن ركوع، فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قد أنزل عليه قرآن (و) (٢) قد أمر أن يستقبل الكعبة (٣) (ألا فاستقبلوها قال: فانحرف إمامنا وهو راكع، وانحرف القوم حتى استقبلوا الكعبة) (٤)، فصلينا بعد (تلك) (٥) الصلاة إلى بيت المقدس وبعضها إلى الكعبة (٦).حضرت عمارہ بن اوس کہتے ہیں کہ ہم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے کہ ایک قاصد آیا جبکہ ہمارا امام بھی رکوع میں تھا اور ہم بھی حالت رکوع میں تھے۔ اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلو اب تم بھی خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلو۔ ہمارے امام نے حالت رکوع میں ہی خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلیا اور سب لوگوں نے بھی خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلیا۔ پس ہم نے اس نماز کا کچھ حصہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے ادا کیا اور کچھ حصہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے۔