حدیث نمبر: 34072
٣٤٠٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن منصور ابن صفية عن أمه قال: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب، فقالوا: (هذه) (١) أسماء، (قال) (٢): فأتاها فذكرها ووعظها وقال لها: إن (الجيفة) (٣) (ليست) (٤) بشيء، وإنما الأرواح عند اللَّه فاصبري واحتسبي، (فقالت) (٥): وما يمنعني من الصبر، وقد أهدي رأس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٦).مولانا محمد اویس سرور
منصور بن صفیہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے جب کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکایا ہوا تھا، لوگ کہنے لگے کہ یہ حضرت اسماء تشریف فرما ہیں، آپ ان کے پاس گئے ، ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ جسم کوئی چیز نہیں بلکہ اللہ کے پاس تو روحیں پہنچتی ہیں، اس لیے تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو، انہوں نے فرمایا کہ مجھے صبر سے کیا چیز روکے گی جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ کو دیا گیا تھا ؟
حواشی
(١) في [جـ، م]: (هوذه).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) كذا في النسخ، ولعلها: الجثة، فقد وردت بلفظ: (الجثث) في مصادر التخريج وأحكام تمني الموت للشيخ محمد بن عبد الوهاب ص ٤٥، والآيات البينات للألوسي ص ٥٢، وتاريخ الإسلام ٥/ ٣٥٨، وسير أعلام النبلاء ٢/ ٢٩٥، وتهذيب الأسماء ٢/ ٥٩٨.
(٤) في [أ، ب، جـ، م]: (ليس).
(٥) في [هـ]: (قالت).