مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر فيما فضل (الله) به يونس بن متى ﵇ باب: ان فضیلتوں کا ذکر جو یونس بن متّی علیہ السلام کو حاصل ہوئیں
٣٤٠٣١ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: ثنا عبد اللَّه بن مسعود في بيت المال عن يونس قال: إن يونس كان (قد) (١) وعد قومه العذاب، وأخبرهم أنه يأتيهم إلى ثلاثة أيام، ففرقوا بين كل والدة ⦗٥١٣⦘ وولدها، ثم خرجوا فجأروا إلى اللَّه (واستغفروا) (٢)، فكف اللَّه عنهم العذاب، (وغدا) (٣) يونس ينتظر العذاب، فلم ير شيئًا، وكان من (كذب) (٤) ولم تكن له بينة (قتل) (٥) فانطلق (مغاضبًا) (٦) حتى أتى قومًا في سفينة فحملوه وعرفوه، فلما دخل السفينة (ركدت) (٧)، والسفن تسير يمينًا وشمالًا، (فقال) (٨): ما لسفينتكم؟ قالوا: ما ندري، قال يونس: إن فيها عبدا أبق من ربه، وإنها لا تسير حتى تلقوه، فقالوا: أما أنت -يا نبي اللَّه- (فواللَّه) (٩) لا نلقيك، فقال لهم يونس: (فأقرعوا) (١٠) فمن قرع فليقع، فقرعهم يونس فأبوا أن يدعوه، فقالوا: من قرع ثلاث مرات فليقع، فقرعهم يونس ثلاث مرات فوقع، وقد كان وكل به الحوت، فلما وقع ابتلعه فأهوى به إلى قرار الأرض، فسمع يونس ﵇ (١١) تسبيح الحصى ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أنت سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: ٨٧]، ظلمات ثلاث: ظلمة بطن الحوت، وظلمة البحر، وظلمة الليل، قال: فنبذ ﴿فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ﴾ [الصافات: ١٤٥]، قال: كهيئة الفرخ الممعوط، ليس عليه ⦗٥١٤⦘ ريش، وأنبت اللَّه عليه شجرة يقطين، كان يستظل بها ويصيب منها، (فيبست) (١٢) فبكى عليها حين يبست، فأوحى اللَّه إليه: تبكي على شجرة يبست ولا تبكي على مائة ألف أو يزيدون (١٣) أن (تهلكهم) (١٤)، فخرج فإذا هو بغلام يرعى غنمًا فقال: ممن أنت يا غلام؟ فقال: من قوم يونس، قال: فإذا رجعت إليهم فأخبرهم أنك قد لقيت يونس، قال: فقال له الغلام: إن تكن يونس فقد تعلم (أن) (١٥) من كذب ولم تكن له بينة أن يقتل، فمن يشهد لي؟ فقال له يونس: (تشهد) (١٦) لك هذه الشجرة، وهذه البقعة، فقال الغلام: مرهمًا، فقال لهما يونس: (إن) (١٧) جاءكما هذا الغلام فاشهدا له، (قالتا) (١٨): نعم، فرجع الغلام إلى قومه، وكان له إخوة وكان في (منعة) (١٩)، فأتى الملك فقال: إني لقيت يونس وهو يقرأ عليكم السلام، فأمر به الملك أن يقتل، فقالوا له: إن له بينة، فأرسل معه فانتهوا إلى الشجرة والبقعة، فقال لهما الغلام: أنشدكما باللَّه هل أشهدكما يونس، (قالتا) (٢٠): نعم، فرجع القوم مذعورين يقولون: يشهد له (الشجرة) (٢١) والأرض، فأتوا الملك ⦗٥١٥⦘ فحدثوه بما (رأوه) (٢٢)، (فقال) (٢٣) عبد اللَّه: فتناوله الملك فأخذ بيد الغلام فأجلسه في مجلسه وقال: أنت أحق بهذا المكان مني، قال عبد اللَّه: فأقام لهم ذلك الغلام أمرهم أربعين سنة (٢٤).عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیت المال میں بیان فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کے آنے کا وعدہ کیا اور ان کو بتایا کہ ان پر تین دن کے اندر عذاب آئے گا ، چناچہ انہوں نے ہر ماں کو اس کے بچے سے جدا کیا پھر نکلے اور اللہ سے گریہ زاری اور استغفار کرنے لگے، چناچہ اللہ نے ان سے عذاب کو روک لیا، اور حضرت یونس علیہ السلام اگلے دن عذاب کا انتظار کرنے لگے لیکن ان کو کچھ نظر نہ آیا، اور اس زمانے میں جو شخص جھوٹ بولتا اس کو قتل کردیا جاتا، چناچہ وہ غصّے میں نکلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں آئے اور انہوں نے ان کو پہچان کر سوار کرلیا، جب آپ کشتی پر سوار ہوئے تو کشتی رک گئی، کشتیاں دائیں اور بائیں چلا کرتی تھیں، وہ کہنے لگے کہ کشتی کو کیا ہوگیا، دوسرے جواب میں کہنے لگے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میں ایک بندہ ہے جوا پنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے ، اور کشتی اس وقت تک نہیں چلے گی جب تک تم اس کو پانی میں نہیں ڈال دو گے، انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! بخدا آپ کو تو ہم نہیں ڈال سکتے۔ (٢) چناچہ یونس علیہ السلام نے فرمایا کہ قرعہ ڈال لو، جس کے نام قرعہ آئے اس کو گرا دیا جائے، چناچہ یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکلا، لیکن انہوں نے آپ کو گرانے سے انکار کردیا، پھر وہ کہنے لگے کہ جس کے نام تین مرتبہ قرعہ نکل آئے اس کو گرا دو ، چناچہ تین مرتبہ یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکلا، آپ پر ایک مچھلی مقرر کی گئی تھی، جب آپ گرے تو اس نے آپ کو نگل لیا اور ان کو لے کر زمین کی تہہ تک چلی گئی چناچہ یونس علیہ السلام نے کنکریوں کی تسبیح سنی { فَنَادَی فِی الظُّلُمَاتِ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَک إنِّی کُنْت مِنْ ألظَّالِمِینَ } انہوں نے تین تاریکیوں میں تسبیح کی، مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا، سمندر کی تاریکی اور رات کا اندھیرا، اللہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے ان کو میدان میں ڈال دیا جبکہ وہ بیمار تھے، اور اس پرندے کی طرح ہوگئے تھے جس کے پر نہیں ہوتے، اور اللہ نے ان پر ایک کدو کا پودا اگایا، جس سے آپ سایہ لیتے اور کھاتے، چناچہ وہ خشک ہوگیا تو آپ رونے لگے، چناچہ اللہ نے وحی فرمائی کہ آپ پودے کے خشک ہونے پر تو روتے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں پر نہیں روتے جن کو ہلاک کرنے کا آپ نے ارادہ کیا تھا۔ (٣) چناچہ آپ نکلے اور ایک لڑکے پاس پہنچے جو بکریاں چرا رہا تھا اور اس سے فرمایا اے لڑکے ! تمہارا کس قوم سے تعلق ہے ! اس نے کہا قوم یونس سے ، آپ نے فرمایا : جب تم ان کے پاس جاؤ تو بتانا کہ تمہاری حضرت یونس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ہے لڑکے نے کہا کہ اگر آپ یونس ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ جو شخص جھوٹ بولتا ہے اور اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے، تو میرے لئے کون گواہی دے گا ؟ حضرت یونس نے اس سے فرمایا کہ تمہارے لیے یہ درخت گواہی دے گا اور یہ جگہ، لڑکے نے کہا کہ ان کو حکم دے دیجئے، چناچہ حضرت یونس علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب یہ لڑکا تمہارے پاس آئے تو اس کے لئے گواہی دے دینا، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، چناچہ وہ لڑکا اپنی قوم کے پاس واپس چلا گیا اور اس کے بھائی بھی تھے، اور وہ اثرو رسوخ کا مالک تھا چناچہ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہا کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے ملا ہوں اور وہ آپ کو سلام کہتے ہیں ، بادشاہ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا کہ اس کے پاس گواہی ہے ، چناچہ بادشاہ نے اس کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیا وہ درخت اور جگہ کے پاس پہنچے اور لڑکے نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا حضرت یونس علیہ السلام نے تمہیں گواہ بنایا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! چناچہ لوگ خوفزدہ ہو کر واپس لوٹے اور کہنے لگے یہ درخت اور زمین بھی اس لڑکے کے لئے گواہی دیتے ہیں، اور بادشاہ کے پاس پہنچے اور جو کچھ دیکھا تھا اس کے سامنے بیان کردیا۔ (٤) حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ بادشاہ نے اس لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنی جگہ بٹھایا اور کہا کہ تم اس جگہ کے مجھ سے زیادہ حق دار ہو، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ لڑکا چالیس سال تک ان کا حاکم رہا۔