مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما أعطه الله سليمان بن داود ﵇ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں
٣٤٠١٦ - حدثنا أبو معاوية قال: ثنا الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان (سليمان بن) (١) داود ﵇ (٢) يوضع له ستمائة ألف كرسي، ثم (يجيء) (٣) أشراف الإنس حتى يجلسوا مما يلي الأيمن، ثم ⦗٥٠٨⦘ (يجيء) (٤) أشراف الجن حتى يجلسوا مما يلي الأيسر، ثم يدعو الطير فتظلهم، ثم يدعو الريح فتحملهم، فيسير في الغداة الواحدة مسيرة شهر، فبينما هو ذات يوم يسير في فلاة من الأرض فاحتاج إلى الماء، فدعا الهدهد فجاء فنقر الأرض فأصاب موضع الماء، ثم تجيء الشياطين ذلك الماء فتسلخه كما يسلخ الإهاب فيستخرجوا الماء منه. قال: فقال له نافع بن الأزرق: قف (يا وقاف) (٥) أرأيت قولك: الهدهد يجيء فينقر الأرض فيصيب موضع الماء، كيف يبصر هذا ولا يبصر الفخ يجيء إليه حتى يقع في عنقه، فقال له ابن عباس: ويحك إن القدر حال دون البصر (٦).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے لیے چھ لاکھ کرسیاں لگائی جاتی تھیں، پھر انسانوں میں سے شرفاء آتے اور دائیں جانب بیٹھ جاتے، اور پھر جنوں کے شرفاء آتے اور بائیں جانب بیٹھ جاتے، پھر آپ پرندوں کو بلاتے اور وہ ان پر سایہ کرتے، پھر ہوا کو بلاتے اور وہ ان کو اٹھاتی ، اور آپ ایک صبح میں ایک مہینے کی مسافت قطع کرتے، ایک دن آپ اسی طرح ایک میدان میں جارہے تھے کہ آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی، آپ نے ہد ہد کو بلایا، وہ آیا اور اس نے زمین میں چونچ ماری اور پانی کی جگہ بتلائی، پھر اس جگہ شیاطین آئے اور انہوں نے اس جگہ کو اس طرح کھودا جس طرح بکری کی کھال اتاری جاتی ہے اور انہوں نے اس جگہ سے پانی نکالا۔ کہتے ہیں کہ اس پر نافع بن ازرق نے کہا اے ٹھہرنے والے ٹھہر جائیے، آپ کہتے ہیں کہ ہدہد نے آ کر زمین میں پانی کی جگہ چونچ ماری، اس کو یہ کیسے نظر آتا ہے جبکہ اس کو جال بھی نظر نہیں آتا جو آ کر اس کی گردن میں پڑجاتا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارا ناس ہو، تقدیر آنکھوں کے سامنے حائل ہوجاتی ہے۔