حدیث نمبر: 34013
٣٤٠١٣ - حدثنا أبو أسامة قال ثنا عوف عن الحسن وخلاس بن عمرو ومحمد عن أبي هريرة في قوله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ قال: كان من أذاهم إياه أن نفرا من بني إسرائيل قالوا: ما يستتر منا مولسى هذا (الستر) (١) إلا من عيب يجلده: إما برص، وإما آفة، وإما أدرة، وإن اللَّه أراد أن يبرئه مما قالوا، قال: وإن موسى ﵇ (٢) خلا ذات يوم وحده، فوضع ثوبه على حجر ثم دخل يغتسل، فلما فرغ أقبل (على) (٣) ثوبه ليأخذه عدا الحجر بثوبه، فأخذ موسى ﵇ (٤) عصاه في أثره، فجعل يقول: ثوبي يا حجر، ثوبي يا حجر، حتى انتهى إلى ملإٍ من بني إسرائيل فرأوه عريانًا، (فإذا) (٥) كأحسن الرجال خلقًا، فبوأه اللَّه مما يقولون، قال: وقام الحجر فأخذ ثوبه فلبسه، (وطفق) (٦) موسى يضرب الحجر بعصاه، فواللَّه إن بالحجر الآن ⦗٥٠٧⦘ من أثر ضرب موسى (٧) -ذكر ثلاث أو أربع أو خمس (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ کے فرمان { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَکُونُوا کَاَلَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کی تفسیر میں روایت ہے فرمایا کہ انہوں نے آپ کو اذیت ا س طرح تھی کہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت نے ان سے کہا کہ موسیٰ ہم سے اس لیے چھپتے ہیں کہ ان کی جلد میں کوئی عیب ہے یا برص ہے یا کوئی اور بیماری یا أُدرہ بیماری ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس بات سے بری کرنے کا ارادہ فرمایا تو ایک دن موسیٰ علیہ السلام خلوت میں گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے پھر داخل ہو کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو اپنے کپڑوں کی طرف آئے تاکہ کپڑے لے لیں، چناچہ پتھر دوڑنے لگا، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی پکڑی اور اس کے پیچھے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگے اے پتھر ! میرے کپڑے، اے پتھر ! میرے کپڑے ، یہاں تک کہ جب وہ بنو اسرائیل کی مجلس میں پہنچا اور انہوں نے آپ کو برہنہ دیکھا تو آپ بہترین جسامت والے تھے، اس طرح اللہ نے آپ کو ان کی باتوں سے بری فرما دیا، اور پتھر ٹھہر گیا اور آپ نے اپنے کپڑے لے کر پہنے اور موسیٰ علیہ السلام اپنی لاٹھی سے پتھر کو مارنے لگے، بخدا پتھر پر اب بھی موسیٰ علیہ السلام کی ضرب کے نشانات ہیں، تین ہیں یا چار یا پانچ۔

حواشی
(١) في [هـ]: (التستر).
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [ك]: (إلى).
(٤) سقط من: [م].
(٥) في [أ، ب]: (فرأوه).
(٦) في [أ، ب]: (فطفق).
(٧) زيادة في [م]: (ندب).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34013
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وورد مرفوعًا أخرجه البخاري (٣٤٠٤)، والترمذي (٣٢٢١)، وبنحوه مسلم (٣٣٩)، وظاهر رواية أحمد (١٠٦٨٨)، أن خبر الحسن مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34013، ترقيم محمد عوامة 32510)