مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل باب: وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
٣٤٠١٢ - حدثنا أبو معاوية قال: ثنا الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله: ﴿لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ قال: قال له قومه: إنه آدر، قال: فخرج ذات يوم يغتسل فوضع ثيابه على صخرة فخرجت الصخرة تشتد بثيابه وخرج يتبعها عريانا حتى انتهت به إلى مجالس ⦗٥٠٦⦘ بني إسرائيل، قال: فرأوه ليس بآدر (قال) (١): (فذاك) (٢) قوله: ﴿فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ (٣) [الأحزاب: ٦٩].سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان { لاَ تَکُونُوا کَالَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ آپ کی قوم نے آپ سے کہا کہ آپ کو ” اُدرہ “ بیماری ہے، چناچہ ایک دن آپ غسل کے لئے نکلے تو آپ نے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے چناچہ وہ پتھر ان کے کپڑوں کو لے کر بھاگنے لگا، اور آپ برہنہ اس کا پیچھا کرنے لگے، یہاں تک کہ وہ پتھر آپ کو بنی اسرائیل کی مجلس میں لے گیا، چناچہ انہوں نے دیکھا کہ ان کو ” اُدرہ “ بیماری نہیں ، کہتے ہیں کہ یہی اللہ کے فرمان { فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کا معنی ہے۔