حدیث نمبر: 34006
٣٤٠٠٦ - حدثنا عبيد اللَّه قال: ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون الأودي عن عمر بن الخطاب أن موسى ﵇ (١) لما ورد ماء مدين وجد عليه أمة من الناس يسقون، فلما فرغوا أعادوا الصخرة على البئر ولا يطيق رفعها إلا عشرة رجال، فإذا هو بامرأتين تذودان، قال: ما خطبكما؟ (فحدثتاه) (٢)، فأتى الحجر فرفعه، ثم لم يستق إلا ذنوبًا واحدًا حتى رويت الغنم، ⦗٥٠٣⦘ ورجعت المرأتان إلى أبيهما فحدثتاه، وتولى موسى ﵇ (٣) إلى الظل فقال: ﴿رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾، قال: ﴿فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ﴾ واضعة ثوبها على وجهها، ﴿قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا﴾ قال لها: امشي خلفي وصفي لي الطريق، فإني أكره أن تصيب الريح ثوبك (٤) فيصف لي جسدك، فلما انتهى إلى أبيها قص عليه، قالت إحداهما: ﴿يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ [القصص: ٢٤، ٢٥، ٢٦]، قال: يا بنية ما علمك بأمانته وقوته؟ قالت: أما قوته فرفعه الحجر ولا يطيقه إلا عشرة، وأما أمانته فقال لي: امشي خلفي وصفي لي الطريق فإني أخاف أن تصيب الريح ثوبك (فيصف) (٥) جسدك، فقال عمر: فأقبلت إليه ليست بسلفع من النساء لا خراجة ولا ولاجة، (واضعة) (٦) ثوبها على وجهها (٧).
مولانا محمد اویس سرور

عمرو بن میمون أودی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام مدین کے پانی پر پہنچے، تو اس پر بعض لوگوں کو پانی بھرتے ہوئے دیکھا، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے دوبارہ کنویں پر چٹان رکھ دی، اور اس کو دس سے کم آدمی نہیں اٹھا سکتے تھے، آپ نے وہاں دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریاں ہٹا رہی تھیں، آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا حالت ہے ؟ انہوں نے آپ کو بتائی، تو آپ پتھر کے پاس آئے اور اس کو اٹھایا پھر ایک ہی ڈول کھینچا تھا کہ بکریاں سیراب ہوگئیں، اور وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس چلی گئیں، اور ان سے قصّہ بیان کیا، اور موسیٰ علیہ السلام سائے میں تشریف لے گئے اور فرمایا { رَبِّ إنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ} کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک عورت حیاء کے ساتھ اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے آپ کے پاس آئی، اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ تمہیں ہماری بکریوں کو پانی پلانے کی اجرت دیں، آپ نے فرمایا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاتی رہو، کیونکہ مجھے یہ بات بری لگتی ہے کہ ہوا آپ کے کپڑوں پر لگے تو آپ کا جسم مجھے نظر آئے ، جب وہ اپنے والد کے پاس پہنچی تو اس نے قصہ بیان کیا اور کہا ابا جان اس کو اجرت پر رکھ لیں، بیشک بہترین مزدور وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو، انہوں نے فرمایا اے بیٹی ! تمہیں اس کی امانت اور طاقت کا کیسے علم ہوا ؟ اس نے کہا قوت کا علم اس طرح ہوا کہ انہوں نے پتھر کو اکیلے اٹھایا جبکہ اس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں، اور اس کی امانت کا علم اس طرح ہوا کہ اس نے مجھے کہا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاؤ۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ تمہارے کپڑوں پر ہوا لگے اور مجھے تمہارا جسم نظر آئے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آئی اس طرح کہ جری عورتوں کی طرح نہیں تھی اور نہ بہت گھر سے نکلنے اور داخل ہونے والی تھی اور اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے تھی۔

حواشی
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فأتاه)، وفي [هـ]: (فأخبرتاه).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [ب]: (ثوبك) تكرار.
(٥) في [هـ]: (فتصف).
(٦) في [أ، ب]: (وضعت)، وفي [هـ]: (ومعه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34006
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم (١٦٨٢٧)، وابن الجوزي في المنتظم ١/ ٣٣٥، ومجاهد في التفسير ٢/ ٦٨٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34006، ترقيم محمد عوامة 32503)