حدیث نمبر: 34005
٣٤٠٠٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن، (١) أبي إسحاق عن عمارة بن عبد عن علي قال: (انطلق) (٢) موسى وهارون ﵉ (٣) وانطلق (شبر وشبير) (٤) فانتهوا إلى جبل فيه سرير فنام عليه هارون فقبض روحه، فرجع موسى ⦗٥٠٢⦘ إلى قومه فقالوا: أنت قتلته حسدتنا على خلقه أو على لينه، أو كلمة نحوها -الشك من سفيان- قال: كيف أقتله ومعي (ابناه) (٥) قال: (فاختاروا (من شئتم) (٦) قال: فاختاروا) (٧) من كل سبط عشرة، قال: وذلك قوله: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا﴾ فانتهوا إليه، فقالوا: من قتلك يا هارون؟ قال: ما قتلني أحد، ولكن توفاني اللَّه، قالوا: يا موسى! ما (نعصي) (٨)؟ قال: فأخذتهم الرجفة، فجعل يتردد يمينا وشمالا ويقول: ﴿لَوْ شِئْتَ (أَهْلَكْتَهُمْ) (٩) مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ﴾ [الأعراف: ١٥٥]، قال: فدعا اللَّهَ فأحياهم وجعلهم أنبياء كلهم (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ اور ہارون i اور شبر اور شبیر چلے اور ایک پہاڑ تک پہنچے جس میں ایک بستر تھا چناچہ ہارون علیہ السلام اس پر سو گئے، اور ان کی روح قبض ہوگئی، چناچہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس واپس آئے، تو ان کی قوم کہنے لگی کہ ان کو آپ نے قتل کیا ہے، اور ان کے اخلاق کی وجہ سے آپ کو ہم پر حسد ہوا ہے، یا کہا کہ ان کی نرمی پر، یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا، شک سفیان راوی کی طرف سے ہے، آپ نے فرمایا کہ میں ان کو کیسے قتل کرسکتا ہوں جب کہ میرے ساتھ ان کے بیٹے ہیں پھر آپ نے فرمایا کہ جن کو چاہو چن لو، چناچہ انہوں نے ہر قبیلے سے دس افراد چنے، یہی معنی ہے اللہ کے فرمان { وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلاً } کا ، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو ان سے پوچھا اے ہارون ! آپ کو کس نے قتل کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ مجھے اللہ نے وفات دی ، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! آج کے بعد ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے، چناچہ ایک زلزلہ آیا اور وہ ہلاک ہوگئے، اور دائیں بائیں پریشان پھرنے لگے اور عرض کی { لَوْ شِئْت أہْلَکْتَہُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ أَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَائُ مِنَّا إنْ ہِیَ إلاَّ فِتْنَتُک } اس کے بعد انہوں نے دعا کی تو اللہ نے ان کو زندہ کردیا اور ان سب کو انبیاء بنادیا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، م، هـ]، وانظر: مصادر التخريج وتفسير القرطبي ٧/ ٢٩٤.
(٢) في [ب]: (فانطلق).
(٣) سقط من: [م].
(٤) بياض في: [أ، ب].
(٥) في [ط، هـ]: (أبناؤه).
(٦) في [هـ]: (سبعين رجلًا).
(٧) سقط من: [م].
(٨) في [أ، ب]: (ما تقضي)، وفي [م]: (تعصي).
(٩) في [جـ]: (لأهلكتهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34005
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمارة قال أحمد عنه: "مستقيم الحديث"، وأخرجه الضياء (٦٨٦)، وابن أبي حاتم (٩٠١٨)، وابن جرير ٩/ ٧٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34005، ترقيم محمد عوامة 32502)