حدیث نمبر: 34003
٣٤٠٠٣ - حدثنا شبابة عن يونس بن أبي إسحاق عن أبي إسحاق عن عمرو ابن ميمون عن عبد اللَّه بن مسعود أن موسى ﵇ (١) حين أسرى ببني إسرائيل بلغ فرعون، فأمر بشاة فذبحت، ثم قال: لا واللَّه (لا يُفرغ) (٢) من سلخها حتى يجتمع إليَّ ستمائة ألف من القبط، قال: فانطلق موسى ﵇ (٣) حتى انتهى إلى البحر فقال له: (افرق) (٤)، فقال البحر: لقد (استكثرت) (٥) يا موسى، وهل (فرقت) (٦) لأحد من ولد آدم (فافرق) (٧) لك؟ قال: ومع موسى ﵇ (٨) رجل على حصان (له) (٩)، قال له ذاك الرجل (١٠): أين أمرت يا نبي اللَّه؟ قال: ما أمرت إلا بهذا الوجه، قال: فأقحم فرسه فسبح به، فخرج فقال: أين أمرت (١١) يا نبي اللَّه؟ قال ما أمرت إلا بهذا الوجه، قال: واللَّه ما كذبتَ ولا كذبتُ، ⦗٥٠١⦘ (قال) (١٢): ثم اقتحم الثانية فسبح به ثم خرج، فقال: أين ما أمرت (به) (١٣) يا نبي اللَّه؟ قال: ما أمرت إلا بهذا الوجه، قال: واللَّه ما كَذبتَ ولا كذِبتَ، قال: فأوحى اللَّه إلى (موسى ﵇ (١٤) أن اضرب بعصاك، فضرب موسى بعصاه فانفلق، فكان كل فرق كالطود العظيم كالجبل العظيم، فكان فيه (اثنا عشر) (١٥) طريقا لاثني عشر سبطًا، لكل سبط طريق يتراؤن، فلما خرج أصحاب موسى ﵇ (١٦) وتتام أصحاب فرعون التقى البحر عليهم فأغرقهم (١٧).
مولانا محمد اویس سرور

عمرو بن میمون حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر چلے تو فرعون کا لشکر پہنچ گیا، آپ نے ایک بکری کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ قبطی میرے پاس جمع ہوجائیں، چناچہ موسیٰ علیہ السلام ان کو لے کر چلے یہاں تک کہ سمندر تک پہنچ گئے تو اس سے فرمایا پھٹ جا، سمندر نے کہا اے موسیٰ ! تم تکبر کرتے پھرتے ہو ، کیا میں اولادِ آدم میں کسی کے لیے پھٹا ہوں کہ تمہارے لیے پھٹ جاؤں ؟ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک آدمی گھوڑے پر سوار تھا، اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کو کس طرف آنے کا حکم ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، چناچہ اس نے اپنے گھوڑے کو سمندر میں ڈالا اور اس پر تیرنے لگا پھر نکلا اور کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کو کہاں جانے کا حکم ہوا ہے ؟ ّ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، اس نے کہا بخدا نہ آپ نے جھوٹ بولا اور نہ آپ کی تکذیب کی گئی، اس کے بعد اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، آپ نے اس پر لاٹھی ماری تو وہ پھٹ گیا اور ہر راستہ بڑے ٹیلے کی طرح ہوگیا ، چناچہ اس میں بارہ قبیلوں کے لئے بارہ راستے بن گئے، اور ہر قبیلے کا راستہ جدا تھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، جب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی نکل گئے اور فرعون کے ساتھی سب کے سب سمندر میں پہنچ گئے تو سمندر ان پر مل گیا اور وہ سب ڈوب گئے۔

حواشی
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، ب]: (لا نفرغ).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [هـ]: (انفرق).
(٥) في [أ، ب]: (استكبرت).
(٦) في [هـ]: (انفرقت).
(٧) في [هـ]: (فأنفرق).
(٨) سقط من: [جـ، م].
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) زيادة في [جـ]: (له).
(١١) زيادة في [أ، ب، جـ]: (ما).
(١٢) سقط من: [جـ، م].
(١٣) سقط من: [جـ، م].
(١٤) سقط من: [أ، ب، م].
(١٥) في [أ، ب]: (اثنى عشر).
(١٦) سقط من: [جـ، م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34003
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٣/ ٣٣٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34003، ترقيم محمد عوامة 32500)