مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل باب: وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
٣٤٠٠٢ - حدثنا ابن علية عن الجريري (١) عن أبي (السليل) (٢) عن قيس بن عباد وكان من أكثر الناس أو من أحدث الناس عن بني إسرائيل قال: فحدثنا أن الشرذمة الذين سماهم فرعون (من بني إسرائيل كانوا ستمائة ألف، وكان مقدمة فرعون) (٣) سبعمائة ألف كل رجل منهم على حصان، على رأسه بيضة وبيده حربة (وهو) (٤) خلفهم في الدهم، فلما انتهى موسى ﵇ (٥) ببني إسرائيل إلى ⦗٤٩٩⦘ البحر، قالت (بنو) (٦) إسرائيل: (أين) (٧) ما وعدتنا؟ هذا البحر بين أيدينا، وهذا فرعون وجنوده قد دهمنا (أو) (٨) من خلفنا، فقال موسى ﵇ (٩) للبحر: انفلق (أبا) (١٠) خالد، فقال: لا أنفلق لك يا موسى، أنا أقدم منك خلقا أو أشد، قال: فنودي أن أضرب بعصاك البحر، (فضرب) (١١) فانفلق، قال الجريري: وكانوا (اثني) (١٢) عشر (١٣) سبطًا، وكان لكل سبط منهم طريق، فلما انتهى أول جنود فرعون إلى البحر هابت الخيل (١٤)، ومثل (لحصان) (١٥) منها فرس (وديق) (١٦)، فوجد ويحها (فانسل) (١٧) فتبعه (الخيل) (١٨)، فلما (تتام) (١٩) آخر جنود فرعون في البحر خرج آخر بني إسرائيل من البحر (فانصفق) (٢٠) عليهم، فقالت بنو إسرائيل: ما مات فرعون ⦗٥٠٠⦘ وما كان ليموت أبدًا، قال: فلم يَعْدُ أن سمع اللَّه تكذيبهم (نبيه) (٢١)، فرمى به على الساحل كأنه (ثور) (٢٢) أحمر يراه بنو إسرائيل.ابو السّلیل حضرت قیس بن عبا د سے روایت کرتے ہیں جو بنی اسرائیل کے بارے میں سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ جماعت جن کے نام فرعون نے لکھے ہوئے تھے چھ لاکھ لوگ تھے اور فرعون کا مقدمۃ الجیش سات لاکھ افراد پر مشتمل تھا، اور ہر شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کے سر پر خود ہوتا، اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوتا ، اور وہ ان لوگوں کے پیچھے پیچھے ہوتا، جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر تک لے گئے تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہاں ہے جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا ہے، سمندر ہمارے سامنے ہے اور فرعون اور اس کا لشکر ہم پر چڑھا آ رہا ہے، یا کہا کہ ہمارے پیچھے ، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سمندر ! پھٹ جا، اس نے کہا اے موسیٰ میں آپ کے لیے نہیں پھٹتا، میں پیدائش میں آپ سے مقدم ہوں، یا کہا مضبوط ہوں، چناچہ آواز دی گئی کہ سمندر پر اپنا عصار مارو، آپ نے عصا مارا تو وہ پھٹ گیا۔ جُریری کہتے ہیں کہ وہ بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کا ایک راستہ جدا تھا، جب فرعون کے لشکر کا پہلا حصّہ سمندر تک پہنچا تو گھوڑے مشعلوں سے ڈر گئے، اور ہر گھوڑے کے سامنے ایک مادہ گھوڑی کی شکل آگئی چناچہ گھوڑے تیزی سے ان کے پیچھے دوڑنے لگے، جب لشکر کا آخری حصّہ سمندر میں پہنچ گیا تو بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل گئے، چناچہ سمندر ان پر مل گیا، بنی اسرائیل کہنے لگے کہ فرعون نہیں مرا، اور وہ تو کبھی نہیں مرے گا، چناچہ ابھی اللہ نے ان کی تکذیب ان کے نبی تک بھی نہ پہنچائی تھی کہ سمندر نے اس کو ساحل پر ڈال دیا گویا کہ وہ سرخ رنگ کا بیل تھا، اس کو بنی اسرائیل دیکھنے لگے۔