مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في موسى ﵇ من الفضل باب: وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
٣٤٠٠٠ - حدثنا أحمد بن إسحاق قال: ثنا وهيب عن عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد أن رجلًا من الأنصار سمع رجلًا من اليهود وهو في السوق وهو يقول: والذي اصطفى موسى ﵇ (١) على البشر، فضرب وجهه، (٢) أي خبيث أعلى أبي القاسم، فانطلق اليهودي إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا أبا القاسم ⦗٤٩٨⦘ ضرب وجهي فلان، فأرسل إليه فدعاه فقال: لم ضربت وجهه؟ فقال: إني مررت به في السوق فسمعته يقول: والذي اصطفى موسى على البشر، فأخذتني غضبة فضربت وجهه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا تخيروا بين الأنبياء، فإن الناس يصعقون يوم القيامة فأرفع رأسي فإذا أنا بموسى آخذ بقائمة من قوائم العرش، فلا أدري أصعق (فيمن) (٣) صعق فأفاق قبلي أو حوسب بصعقته الأولى -أو قال- كلفته صعقته الأولى" (٤).حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے ایک یہودی کو بازار میں یہ کہتے سنا کہ ” اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو انسانوں پر فضیلت دی، اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا، اور کہا اے خبیث ! کیا ابو القاسم ﷺ پر بھی ؟ چناچہ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کہا کہ اے ابو القاسم ! فلاں شخص نے میرے چہرے پر مارا ہے، آپ نے ایک آدمی بھیج کر اس کو بلوایا اور فرمایا کہ تم نے اس کے چہرے پر کیوں مارا ؟ اس نے کہا کہ میں اس کے پاس سے بازار میں گزر رہا تھا کہ میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا کہ ” اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو انسانوں پر فضیلت دی “ چناچہ مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے چہرے پر مار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دو کیونکہ لوگوں کو قیامت کے دن ایک جھٹکا دیا جائے گا، چناچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو موسیٰ علیہ السلام عرش کے پائے پکڑے ہوں گے، مجھے علم نہیں کہ ان کو لوگوں کے ساتھ جھٹکا دیا جائے گا اور پھر ان کو مجھ سے پہلے افاقہ ہوجائے گا یا پہلا جھٹکا ان کو کافی ہوجائے گا۔