حدیث نمبر: 33981
٣٣٩٨١ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: لما فرغ إبراهيم ﵇ (١) من بناء البيت العتيق قيل له: أذن (في الناس بالحج) (٢)، قال: رب وما يبلغ صوتي، قال: أذن وعلي البلاع، قال: فقال إبراهيم ﵇ (٣): يا أيها الناس، كتب عليكم الحج إلى البيت العتيق، قال: فسمعه ما بين السماء إلى الأرض، ألا ترى أن الناس (يجيئون) (٤) من أقاصي الأرض يلبون (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو آپ سے کہا گیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو، انہوں نے کہا کہ اے میرے رب ! میری آواز کیسے پہنچے گی، اللہ نے فرمایا تم اعلان کردو، پہنچانا میری ذمہ داری ہے، چناچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے لوگو ! تم پر بیت اللہ کا حج فرض کیا گیا ہے، چناچہ اس آواز کو آسمان اور زمین کے درمیان ہر چیز نے سنا، کیا تم دیکھتے نہیں کہ لوگ اس کی طرف زمین کے دور دراز حصوں سے لبیک کی صدا لگاتے ہوئے آتے ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، ب]: (بالناس في الحج).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [أ]: (مجيئون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33981
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ قابوس فيه لين، أخرجه الحاكم ٢/ ٤٢١، وابن جرير ١٧/ ١٤٤، والبيهقي ٥/ ١٧٦، وأحمد بن منيع كما في المطالب العالية (١١٢٧)، وابن عساكر ٦/ ٢٠٥، والضياء ١٠/ (١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33981، ترقيم محمد عوامة 32478)