حدیث نمبر: 33972
٣٣٩٧٢ - حدثنا هوذة قال: (حدثنا) (١) عوف عن يزيد الفارسي قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ في النوم زمن ابن عباس على البصرة، قال: فقلت لابن عباس: إني رأيت رسول اللَّه ﷺ في النوم، قال: فهل تستطيع (٢) تنعت هذا الرجل الذي (رأيت؟) (٣) قلت: نعم، أنعت لك رجلا بين الرجلين جسمه ولحمه أسمر (إلى) (٤) البياض، حسن المضحك أكحل العينين جميل دوائر الوجه، قد ملأت لحيته من لدن هذه إلى هذه، وأشار بيده إلى (صدغيه) (٥) -حتى كادت تملأ نحره، قال: عوف ولا أدري ما كان مع هذا من النعت فقال ابن عباس: لو رأيته في اليقظة ما استطعت أن تنعته فوق هذا (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یزید فارسی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بصرہ پر حکومت کے زمانے میں خواب میں دیکھا، چناچہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم حضور کی صفت بیان کرسکتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ! آپ کی جسامت درمیانی، آپ گندمی رنگ کے بہترین مسکراہٹ والے، سرمگیں آنکھوں والے، خوبصورت چہرے والے ہیں، آپ کی داڑھی نے آپ کے چہرے کو یہاں سے یہاں تک بھرا ہوا ہے، اور انہوں نے کنپٹیوں کی طرف اشارہ کیا ، یہاں تک کہ قریب ہے کہ آپ کے سینے کو بھر دے، عوف کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ صفات مجھے یاد نہیں رہیں، چناچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر تم بیداری میں حضور کو دیکھتے تو اس سے زیادہ بہتر صفت بیان نہ کرسکتے۔

حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (أن).
(٣) في [ب]: (رأيته).
(٤) في [هـ]: (في).
(٥) في [أ، ب]: (صدغه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33972
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يزيد صدوق، أخرجه أحمد (٣٤١٠)، والترمذي في الشمائل (٣٩٢)، وابن سعد ١/ ٤١٧، وابن عساكر ٣/ ٢٦٦، وابن شبه (٩٧٧)، وبنحوه ابن ماجه (٣٠٩٥)، ويزيد الفارسي قال عنه أبو حاتم: لا بأس به، انظر: الجرح والتعديل ٩/ ٢٩٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33972، ترقيم محمد عوامة 32469)