مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٩٦٥ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد قال ثنا أبو (سنان) (٢) عن عبد اللَّه بن مالك عن مكحول قال: كان لعمر على رجل من اليهود حق (فأتاه) (٣) يطلبه فلقيه، فقال له عمر: لا والذي اصطفى محمدا ﷺ (٤) على (البشر لا) (٥) أفارقك وأنا أطلبك بشيء، فقال اليهودي: ما اصطفى اللَّه محمدا على البشر، فلطمه عمر، فقال: بيني وبينك أبو القاسم، فقال: إن عمر قال: لا والذي اصطفى محمدا ﷺ (٦) على ⦗٤٨٤⦘ البشر، (فقلت) (٧) له: ما اصطفى اللَّه محمدًا على البشر، فلطمني، فقال: "أما أنت يا عمر فأرضه من لطمته، بلى يا يهودي (آدم صفي اللَّه، وإبراهيم خليل اللَّه، وموسى نجي اللَّه، وعيسى روح اللَّه، وأنا حبيب اللَّه، بلى يا يهودي) (٨) (تسمى) (٩) اللَّه باسمين سمى بهما أمتي هو السلام، وسمى أمتي المسلمين، وهو المؤمن وسمى أمتي المؤمنين، بلى يا يهودي (طلبتم) (١٠) يومًا (و) (١١) (ذخر) (١٢) لنا، اليوم لنا (وغدًا) (١٣) لكم، وبعد (غد) (١٤) للنصارى، بلى، يا يهودي أنتم الأولون ونحن الآخرون السابقون يوم القيامة، بلى إن الجنة محرمة على الأنبياء حتى أدخلها، وهي محرمة على الأمم حتى (تدخلها) (١٥) أمتي" (١٦).حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کا ایک یہودی پر حق تھا، آپ اس سے مطالبہ کرنے آئے اور اس سے ملے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو چنا ہے میں تجھ سے اس وقت تک جدا نہ ہوں گا جب تک تھوڑی سی چیز باقی نہ رہ جائے، یہودی نے کہا اللہ نے محمد ﷺ کو انسانوں پر نہیں چنا، حضرت عمر نے اس کو طمانچہ مارا، اور فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان ابوالقاسم ﷺ فیصلہ کریں گے، اس نے کہا عمر نے مجھ سے کہا تھا کہ ” اس ذات کی قسم جس نے محمد کو انسانوں پر فضیلت بخشی ہے، ” میں نے کہا کہ اللہ نے محمد کو انسانوں پر فضیلت نہیں بخشی، اس پر انہوں نے مجھے طمانچہ مارا ، آپ نے فرمایا اے عمر ! تم اس کو تھپڑ مارنے کی وجہ سے اس کو راضی کرو، اور اے یہودی ! ہاں آدم صفی اللہ، ابراہیم خلیل اللہ ، موسیٰ نجی اللہ، عیسیٰ روح اللہ، اور میں حبیب اللہ ہوں ، اے یہودی ! ہاں اللہ نے اپنے دو نام اختیار فرمائے اور میری امت کو بھی عطا کیے، وہ ” السلام “ ہے، اور اس نے میری امت کا نام مسلمین رکھا ہے اور وہ ” مومن “ ہے اور اس نے میری امت کا نام ” مؤمنین “ رکھا ہے، ہاں ! اے یہودی تم نے اس دن کو تلاش کیا جو ہمارے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا ، آج کا دن ہمارا، کل کا تمہارا اور پرسوں کا نصاریٰ کا ہے، ہاں اے یہودی ! تم پہلے ہو اور ہم آخری ہیں اور جنت میں قیامت کے دن سب سے پہلے پہنچنے والے ہیں، ہاں بیشک جنت انبیاء پر حرام ہے یہاں تک کہ میں اس میں داخل ہو جاؤں ، اور وہ تمام امتوں پر حرام ہے یہاں تک کہ میری امت اس میں داخل ہوجائے۔