حدیث نمبر: 33951
٣٣٩٥١ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد (بن سلمة) (١) عن ثابت عن سليمان مولى الحسن بن علي عن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ جاء ذات يوم والسرور في وجهه، فقالوا: يا رسول اللَّه إنا لنرى السرور في وجهك، فقال: "إنه أتاني الملك فقال: يا محمد، أما يرضيك أنه لا يصلي عليك من أمتك أحد إلا صليت عليه عشرًا، ولا (يسلم) (٢) عليك أحد من أمتك إلا سملت عليه عشرًا، قال: (٣) بلى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے جبکہ آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس ایک فرشتہ آیا ، اور اس نے کہا اے محمد ! کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو بھی ایک مرتبہ آپ پر درود بھیجے میں اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجوں، اور جو آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجوں، آپ نے فرمایا ، کیوں نہیں !

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب]: (سلم).
(٣) في [هـ]: زيادة (قلت).
(٤) مجهول؛ لجهالة سليمان مولى الحسن، أخرجه أحمد (١٦٣٦١)، والنسائي ٣/ ٤٤، وابن حبان (٩١٥)، والحاكم ٢/ ٤٢٠، والدارمي ٢/ ٣١٧، والشاشي (١٠٧٣)، والقاضي إسماعيل (٢)، والطبراني (٤٧٢٤)، والبغوي (٦٨٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33951
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33951، ترقيم محمد عوامة 32448)