حدیث نمبر: 33934
٣٣٩٣٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (حصين) (١) عن حبيب بن أبي ثابت قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ (٢) فقال: يا رسول اللَّه، جئت من عند حي ما (يتروح) (٣) لهم راع، ولا يخطر لهم فحل، فادع اللَّه لنا، فقال: "اللهم اسق (بلادك وبهائمك) (٤) وانشر رحمتك"، قال: ثم دعا فقال: "اللهم اسقنا غيثًا مغيثًا مريئًا مريعًا طيبًا غدقًا عاجلًا غير رائث، نافعًا غير ضار"، قال": فما نزل حتى ما جاء أحد من وجه من الوجوه إلا قال: مطرنا وأحيينا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں ایسے قبیلے سے آیا ہوں جن کا چرواہا آرام نہیں پاتا اور ان کے نر جانور اپنی دم نہیں ہلاتے، آپ ہمارے لیے دعا کریں، آپ نے فرمایا اے اللہ ! اپنے شہروں اور جانوروں کو پانی سے سیراب کیجیے اور اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے، پھر آپ نے دعا کی ” اے اللہ ! ہمیں خوب برسنے والی ، سبزے والی، پاکیزگی والی اور موٹے قطروں والی جلدی آنے والی، نفع پہنچانے والی نہ کہ نقصان پہنچانے والی بارش عطا فرما۔ “ چناچہ اتنی بارش برسی کہ جس طرف سے بھی کوئی آدمی آتا وہ کہتا کہ ہمارے علاقے میں بارش ہوئی اور زمین زندہ ہوگئی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (حسين).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) في [أ، ب]: (يتزوج)، وفي [هـ]: (يتزود).
(٤) في [هـ]: (بهائمك وبلادك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33934
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حبيب تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٤٩٠٧)، وقد ورد من طريق حبيب عن ابن عباس أخرجه أبو داود (١٢٧٠)، والضياء (٥١٠)، وأبو عوانة (٢٥١٦)، والطبراني (١٢٦٧٧)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٤٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33934، ترقيم محمد عوامة 32431)