حدیث نمبر: 33931
٣٣٩٣١ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن سعيد بن جبير قال: لما أنزل اللَّه (١): ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [المسد: ١]، جاءت إمرأة أبي لهب إلى النبي ﷺ (٢) ومعه أبو بكر فقال أبو بكر: يا نبي اللَّه، إنها (ستؤذيك) (٣) فقال: "إنه سيحال بيني وبينها"، قال: فلم تره، فقالت لأبي بكر: هجانا صاحبك، فقال: واللَّه ما ينطق (بالشعر) (٤) ولا يقوله، فقالت: إنك لمصدق، قال: فاندفعت راجعة، فقال أبو بكر: يا رسول اللَّه، ما رأتك؟ قال: فقال: "لم يزل ملك بيني وبينها يسترني، حتى ذهبت" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے { تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ } نازل فرمائی تو ابو لہب کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی جبکہ آپ کے ساتھ ابوبکر تھے ، حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ آپ کو تکلیف دے گی، آپ نے فرمایا کہ میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا، چناچہ آپ اس کو نظر نہ آئے، اس نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ آپ کے ساتھی نے ہمیں غصے میں مبتلا کردیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ بخدا وہ نہ تو شعر بنا سکتے ہیں نہ شعر کہتے ہیں، اس نے کہا کہ آپ صحیح کہتے ہیں، اس کے بعد وہ چلی گئی، حضرت ا بو بکر نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ آپ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ میرے اور اس کے درمیان رہا اور مجھے چھپاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ چلی گئی۔

حواشی
(١) زيادة في [أ، ب]: (تعالى).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) في [هـ]: (امرأة بذيئة اللسان).
(٤) في [جـ، م]: (الشعر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33931
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ سعيد بن جبير، ورواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، وقد ورد من حديث سعيد بن جبير عن ابن عباس، أخرجه ابن حبان (٦٥١١)، والضياء ١٠/ (٢٩٢)، وأبو يعلى (٢٥)، والبزار (١٥)، والحميدي كما في المطالب العالية (٣٧٨٩)، وابن بشكوال في الأسماء المبهمة ١/ ١٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33931، ترقيم محمد عوامة 32428)