مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
حدیث نمبر: 33930
٣٣٩٣٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن (فليت) (١) العامري عن جسرة عن أبي ذر قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ وهو يصلي ذات ليلة وهو يردد آية [حتى أصبح (يركع بها ويسجد بها) (٢) ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ﴾ [المائدة: ١١٨]، قال: قلت: يا رسول اللَّه ما زلت تردد هذه الآية] (٣) حتى (أصبحت) (٤)، قال: "إني سألت ربي الشفاعة لأمتي، وهي نائلة (لمن) (٥) (لا) (٦) يشرك باللَّه شيئًا" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نماز میں بار بار رکوع اور سجدے میں یہ آیت دہراتے ہوئے سنا {إنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُک } میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صبح تک اس آیت کو دہراتے رہے ؟ فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے شفاعت کا سوال کیا ہے، اور وہ ہر اس آدمی کو حاصل ہونے والی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، م]: (قليت)، وفي [هـ]: (قدامة).
(٢) في [جـ، م]: (بها يركع وبها يسجد).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤) في [جـ، م]: (أصبح).
(٥) في [هـ]: (ممن).
(٦) في [م]: (لم).