حدیث نمبر: 33922
٣٣٩٢٢ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن يحيى بن (جعدة) (١) عن رجل حدثه عن أم مالك الأنصارية، قال: جاءت أم مالك (الأنصارية) (٢) بعكة سمن إلى رسول اللَّه ﷺ، فأمر رسول اللَّه ﷺ بلالًا فعصرها، ثم (دفعها) (٣) ⦗٤٦٨⦘ (إليها) (٤)، فرجعت فإذا هي مملوءة، فأتت النبي ﷺ (٥) فقالت: أنزل في شيء يا رسول اللَّه؟ قال: "وما ذاك يا أم مالك"، قالت: رددت عليَّ هديتي، قال: فدعا بلالًا فسأله عن ذلك، فقال: والذي بعثك بالحق لقد عصرتها حتى استحييت، فقال رسول اللَّه ﷺ: "هنيئًا لك -يا أم مالك- هذه بركة عجل اللَّه (لك) (٦) ثوابها"، ثم علمها أن (تقول) (٧) في دبر كل صلاة: سبحان اللَّه عشرا والحمد للَّه عشرا واللَّه أكبر عشرا (٨).
مولانا محمد اویس سرور

یحییٰ بن جعدہ ایک آدمی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام مالک انصاریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی کی ایک مشک لائیں، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اس کے نچوڑنے کا حکم دیا اور پھر ان کو مشک واپس کردی، وہ لوٹیں تو دیکھا کہ وہ مشک بھری ہوئی ہے، چناچہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا اے ام مالک ! کیا ہوا ؟ کہنے لگیں کہ آپ نے میرا ہدیہ واپس کردیا، آپ نے حضرت بلال کو بلایا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں نے اس کو اتنا نچوڑا کہ مجھے شرم آنے لگی، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے امّ مالک ! تمہیں مبارک ہو یہ برکت ہے جس کا ثواب اللہ نے تمہیں جلد عطا کیا ہے، پھر آپ نے ان کو ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنے کی تعلیم فرمائی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (جعفر)، وفي [م]: (جعله).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (رفعها).
(٤) في [أ، ب]: (إليه).
(٥) في [م]: ﵇.
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٨) مجهول؛ لإبهام الرجل، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٣٤٠٥)، والطبراني ٢٥/ (٣٥١)، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٤٢٧، وأبو نعيم في الدلائل (١٥)، وورد نحوه من حديث جابر عند مسلم (٢٢٨٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33922
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33922، ترقيم محمد عوامة 32419)