حدیث نمبر: 33918
٣٣٩١٨ - حدثنا أسود بن عامر عن مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي يعقوب عن الحسن بن سعد عن عبد اللَّه بن جعفر قال: أردفني النبي ﷺ ذات ⦗٤٦٦⦘ يوم خلفه فاسر إليَّ حديثًا لا أحدثه أحدا من الناس، وكان مما يعجبه - (يعني) (١) النبي ﷺ أن يستتر به لقضاء حاجته (هدف) (٢) أو حائش نخل، فدخل يوما حائش نخل الأنصار فرأى فيه بعيرًا، فلما رآه البعير خر وذرفت عيناه، قال: فمسح النبي ﷺ (٣) سراته وذفراه (٤) فسكن، فقال: "لمن هذا البعير؟ "، أو "من رب هذا البعير؟ " قال: فقال الأنصاري: أنا يا رسول اللَّه، فقال: "أحسن إليه، فقد شكا إلي أنك تجيعه وتدئبه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ نے مجھے اپنا ردیف بنایا اور مجھے رازداری سے ایک بات بتلائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا، اور آپ کو یہ پسند تھا کہ قضاء حاجت کے لئے آپ کو کوئی ٹیلہ یا کھجور کے درخت کا جھنڈ چھپالے، ایک مرتبہ آپ انصار کے درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوئے تو اس میں ایک اونٹ دیکھا ، جب اونٹ نے آپ کو دیکھا تو گرگیا اور اس کی آنکھیں بہنے لگیں، چناچہ نبی ﷺ نے اس کی پیٹھ اور گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہوگیا، آپ نے فرمایا کہ یہ اونٹ کس کا ہے ؟ یا فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے ؟ تو ایک انصاری نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہوں، آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ یہ مجھے شکایت کر رہا ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور ہمیشہ کام میں لگا کر رکھتے ہو۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [جـ، م]: (هدبٌ).
(٣) في [م]: ﵇.
(٤) سراة البعير: ظهره، وذفراه: مؤخر رأسه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33918
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٣٤٢)، وأحمد (١٧٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33918، ترقيم محمد عوامة 32415)