مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٩١٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن سليمان بن عمرو (ابن) (١) الأحوص عن أمه أم جندب قالت: رأيت رسول اللَّه ﷺ (٢) رمى جمرة العقبة من بطن الوادي يوم النحر وهو على دابة، ثم انصرف وتبعته امرأة من خثعم، ومعها صبي لها به بلاء، فقالت: يا رسول اللَّه إن هذا ابني وبقية أهلي وإن به بلاء لا يتكلم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ائتوني بشيء من ماء"، فأتي به فغسل يديه ومضمض فاه ثم أعطاها فقال: "اسقيه منه، وصبي عليه منه واستشفي اللَّه له"، قالت: فلقيت المرأة فقلت: لو وهبت لي منه، فقالت: إنما هو لهذا المبتلى، فلقيت المرأة من الحول فسألتها عن الغلام فقالت: برأ وعقل عقلا ليس كعقول الناس (٣).حضرت امّ جندب فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو بطن الوادی سے جمرۃ العقبۃ کی رمی کی، جبکہ آپ سواری پر تھے، پھر آپ مڑے اور قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پیچھے ہوئی، اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا جس پر اثر تھا، کہنے لگی یا رسول اللہ ! یہ میرا بیٹا اور میرا وارث ہے، اور اس کو ایک اثر ہے جس کی وجہ سے بولتا نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس تھوڑا پانی لاؤ، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور اس کو پانی دے دیا، اور فرمایا کہ اس کو اس سے پلاؤ اور اس پر اس سے چھڑکو، اور اللہ سے اس کے لئے شفاء مانگو ، کہتی ہیں کہ میں ایک عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تھوڑا سا پانی اس میں سے مجھے دے دیں تو کیسا ہے، وہ کہنے لگی کہ یہ تو اس آفت زدہ کے لئے ہے، پھر میں ایک سال کے بعد عورت سے ملی اور اس سے لڑکے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ صحت یاب ہوگیا اور ایسا عقل مند ہوگیا کہ عام لوگ اتنے عقل مند نہیں ہوتے۔