مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٩١٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسماعيل بن عبد الملك عن أبي الزبير عن جابر قال: خرجت مع رسول اللَّه ﷺ في سفر، وكان رسول اللَّه ﷺ (١) لا يأتي البراز حتى يتغيب، فلا يرى، فنزلنا (بفلاة) (٢) من الأرض ليس فيها (شجر) (٣) ولا علم فقال: "يا جابر [اجعل في إداوتك ماء"، ثم انطلق بنا قال: فانطلقنا حتى لا نرى، فإذا هو بشجرتين بينهما أربع أذرع فقال: "يا جابر] (٤) انطلق إلى هذه الشجرة فقل لها: (يقول) (٥) لك رسول اللَّه ﷺ (٦): الحقي بصاحبتك حتى أجلس خلفكما، فرجعت (إليها) (٧) فجلس رسول اللَّه ﷺ خلفهما، ثم رجعتا ⦗٤٦٤⦘ إلى مكانهما، فركبنا ورسول اللَّه ﷺ بيننا كأنما على رءوسنا الطير (تظلنا) (٨)، فعرضت لنا امرأة معها صبي لها فقالت: يا رسول اللَّه إن ابني هذا يأخذه الشيطان كل يوم مرارًا، فوقف بها ثم تناول الصبي فجعله بينه وبين مقدم الرحل ثم قال: "اخسأ عدو اللَّه، أنا رسول اللَّه" -ثلاثًا، ثم (دفعه) (٩) إليها، فلما قضينا سفرنا مررنا بذلك الموضع فعرضت لنا المرأة معها صبيها ومعها كبشان (تسوقهما) (١٠)، فقالت: يا رسول اللَّه اقبل مني هديتي، فوالذي بعثك بالحق، ما عاد إليه بعد، فقال: " (خذوا) (١١) منها أحدهما، وردوا عليها الآخر"، قال: ثم سرنا ورسول اللَّه ﷺ بيننا كأنما على رءوسنا الطير تظلنا، فإذا جمل (ناد) (١٢) حتى إذا كان بين (السماطين) (١٣) خر (ساجدًا) (١٤) فجلس رسول اللَّه ﷺ ثم قال: "علي الناس من صاحب هذا الجمل؟ " فإذا فتية من الأنصار قالوا: هو لنا يا رسول اللَّه، قال: "فما شأنه؟ " قالوا: (سنينا) (١٥) عليه منذ عشرين سنة، وكانت به شحيمة فأردنا أن ننحره فنقسمه بين غلماننا فانفلت منا، (قال) (١٦): "تبيعونه"، قالوا: لا، (بل) (١٧) ⦗٤٦٥⦘ هو لك يا رسول اللَّه، قال: " (أما) (١٨) لا، فأحسنوا إليه حتى يأتيه أجله" (١٩).حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے نہ جاتے یہاں تک کہ اتنی دور چلے جائیں کہ نظر نہ آئیں، چناچہ ہم ایک چٹیل میدان میں اترے جس میں کوئی درخت یا ٹیلہ نہیں تھا، آپ نے فرمایا اے جابر ! اپنے برتن میں پانی ڈالو، پھر ہمارے ساتھ چلو، کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم نظر نہیں آ رہے تھے ، وہاں آپ کو دو درخت نظر آئے جن کے درمیان چار ہاتھ کا فاصلہ تھا، آپ نے فرمایا اے جابر ! اس درخت کے پاس جاؤ اور اس کے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے فرما رہے ہیں کہ اپنے ساتھ والے درخت کے ساتھ مل جاؤ تاکہ میں تمہارے پیچھے بیٹھ سکوں، چناچہ وہ درخت دوسرے سے مل گیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے بیٹھ گئے، پھر وہ اپنی جگہ واپس چلے گئے۔ (٢) پھر ہم سوار ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے سایہ فگن ہیں، چناچہ ہمارا ایک عورت سے سامنا ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اس بیٹے کو ہر روز کئی مرتبہ شیطان پکڑ لیتا ہے، آپ اس کے لئے ٹھہرے اور بچے کو لیا اور اس کو اپنے اور کجاوے کے اگلے حصّے کے درمیان رکھا، پھر فرمایا اے اللہ کے دشمن ! دفع ہوجا، میں اللہ کا رسول ہوں، تین مرتبہ اس طرح فرمایا، پھر بچہ عورت کو دے دیا، جب ہم اس سفر سے واپس ہوئے تو ہم اس جگہ سے گزرے وہ عورت ہمارے سامنے آئی اور اس کے پاس دو مینڈھے تھے جن کو وہ ہانک رہی تھی، اس نے عرض کی یا رسول اللہ مجھ سے یہ قبول کر لیجیے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے وہ اس کے پاس دوبارہ نہیں آیا ، آپ نے فرمایا اس سے ایک لے لو اور دوسرا واپس کردو۔ (٣) فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے، اس طرح تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے سایہ فگن ہیں، اچانک ایک اونٹ دو قطاروں کے درمیان بھاگتا ہوا آیا اور سجدے میں گرگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اے لوگو ! کون اس اونٹ کا مالک ہے ؟ معلوم ہوا کہ انصار کے چند جوان ہیں، کہنے لگے یا رسول اللہ ! یہ ہمارا ہے، آپ نے فرمایا کہ اس کی کیا حالت ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم نے بیس سال اس سے پانی لگوایا ہے، اور اس میں کچھ چربی ہے اس لیے ہم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہیں اور اپنے غلاموں میں اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ، لیکن یہ ہم سے چھوٹ گیا، آپ نے فرمایا کہ کیا تم اس کو بیچتے ہو ؟ وہ کہنے لگے نہیں، بلکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کو ہدیہ ہے، آپ نے فرمایا کہ اگر بیچنا نہیں چاہتے تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو یہاں تک کہ اس کی موت آجائے۔