حدیث نمبر: 33915
٣٣٩١٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال أخبرني عبد الرحمن بن عبد العزيز عن يعلى بن مرة قال: لقد رأيت من رسول اللَّه ﷺ ثلاثًا ما رآها أحد قبلي، ولا يراها أحد من بعدي: لقد خرجت معه في سفر حتى إذا كنا ببعض الطريق مررنا بامرأة جالسة معها صبي، قالت: يا رسول اللَّه ابني هذا (١) أصابه بلاء، وأصابنا منه بلاء، يؤخذ في اليوم لا أدري كم مرة، قال: "ناولينيه"، فرفعته إليه فجعله بينه وبين واسطة (الرحل) (٢)، ثم (فغر) (٣) فاه فنفث فيه ثلاثًا: "بسم اللَّه، أنا عبد اللَّه، اخسأ عدو اللَّه"، قال: ثم ناولها إياه ثم قال: "ألقينا به في الرجعة في هذا المكان فأخبرينا بما فعل"، قال: فذهبنا ورجعنا فوجدناها في ذلك المكان معها شياه ثلاث، فقال: "ما فعل صبيك؟ " قالت: والذي بعثك بالحق ما ⦗٤٦٢⦘ أحسسنا منه شيئا حتى الساعة، (فاجتزر) (٤) (هذه) (٥) الغنم، قال: "انزل فخذ منها (واحدة) (٦) ورد البقية"، قال: وخرجت معه ذات يوم إلى الجبانة حتى إذا برزنا قال: "انظر ويحك: هل ترى من شيء يواريني؟ "، (قلت) (٧): يا رسول اللَّه ما أرى شيئًا يواريك إلا شجرة ما أراها تواريك، قال: "ما (بقربها) (٨) شيء؟ "، قلت: شجرة خلفها وهي مثلها أو قريب منها، قال: "اذهب إليهما (فقل لهما) (٩) إن رسول اللَّه ﷺ يأمركما أن تجتمعا بإذن اللَّه (١٠) "، قال: فاجتمعتا فبرز لحاجته ثم رجع فقال: "اذهب إليهما فقل (لهما) (١١) إن رسول اللَّه ﷺ (١٢) يأمركما أن ترجع كل واحدة منكما إلى مكانها"، قال: وكنت جالسًا معه ذات يوم إذ جاء جمل (يخب) (١٣) حتى (ضرب) (١٤) بجرانه بين يديه ثم ذرفت عيناه فقال: "انظر ويحك لمن هذا الجمل؟ إن له لشأنا"، (قال) (١٥): (فخرجت) (١٦) ألتمس صاحبه، فوجدته ⦗٤٦٣⦘ لرجل من الأنصار فدعوته إليه، فقال: "ما شأن جملك هذا؟ "، قال: وما شأنه؟ قال: لا أدري واللَّه ما شأنه، (قال) (١٧): عملنا عليه ونضحنا عليه حتى عجز عن السقاية فائتمرنا بالبارحة أن ننحره ونقسم لحمه، قال "فلا تفعل هبه لي أو بعنيه"، قال: (١٨) هو لك يا رسول اللَّه، فوسمه (سمة) (١٩) الصدقة ثم بعث به (٢٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن مرّہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین نشانیاں دیکھی ہیں جو نہ مجھ سے پہلے کسی نے دیکھیں نہ میرے بعد کوئی دیکھے گا، میں آپ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا یہاں تک کہ ہم راستے میں ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ ایک بچہ تھا، اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے اس بیٹے کو ایک مصیبت آئی ہے، آپ نے فرمایا مجھے دو ، اس نے بچہ آپ کو دیا، آپ نے اس کو اپنے اور کجاوے کے درمیانی حصّے کے درمیان رکھ لیا، پھر آپ نے اس کا منہ کھولا اور اس میں تین مرتبہ ” بِسْمِ اللہِ أَنَا عَبْدُ اللہِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللہِ “ کہہ کر پھونکا ، پھر وہ بچہ اس کو دے دیا، اور فرمایا کہ واپسی میں ہمیں اسی جگہ ملنا ، اور بتانا کہ کیا ہوا، کہتے ہیں کہ ہم گئے اور پھر لوٹے اور اس عورت کو اس جگہ دیکھا ، اس کے پاس بہت سی بکریاں تھیں، آپ نے فرمایا تمہارے بچے کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم کو اس کے بارے میں ابھی تک کچھ محسوس نہیں ہوا، آپ نے یہ بکریاں لے لیں آپ نے فرمایا اترو اور ایک بکری لے لو اور باقی واپس کردو۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ میدان کی طرف نکلا یہاں تک کہ جب ہم دور نکل گئے تو آپ نے فرمایا دیکھو کیا تم کوئی چیز دیکھتے ہو جو مجھے چھپالے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ کو چھپانے والی کوئی چیز نظر نہیں آرہی سوائے ایک درخت کے جو آپ کو چھپا نہیں سکتا، آپ نے فرمایا اس کے قریب کوئی چیز نہیں ؟ میں نے عرض کیا اس کے پیچھے ایک درخت ہے جو اتنا ہی ہے یا اس کے قریب ہے، آپ نے فرمایا ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم بحکم خدا کٹھے ہو جاؤ، کہتے ہیں کہ وہ دونوں درخت اکٹھے ہوگئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لئے تشریف لے گئے، پھر لوٹ آئے اور فرمایا کہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنی جگہ لوٹ جائے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک اونٹ روتا ہوا آیا، اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو یہ کس کا اونٹ ہے ؟ اس کی بری حالت ہے، کہتے ہیں کہ میں اس کے مالک کو ڈھونڈنے نکلا تو وہ اونٹ انصار میں سے ایک آدمی کا پایا، میں نے اس کو آپ کے پاس بلایا ، آپ نے فرمایا کہ تمہارے اس اونٹ کا کیا قصّہ ہے ؟ اس نے بخدا میں نہیں جانتا کہ اس کی کیا حالت ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ ہم نے اس پر کام کیا اور پانی اٹھوایا، یہاں تک کہ یہ پانی اٹھانے سے عاجز ہوگیا پھر شام کو ہمارا مشورہ ہوا کہ اس کو ذبح کردیں اور اس کا گوشت تقسیم کردیں، آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو یہ مجھے ہبہ کردو یا بیچ دو ، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہے، آپ نے اس پر صدقہ کا نشان لگایا اور پھر اس کو بھیج دیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (قد).
(٢) في [ب]: (الرحيل).
(٣) في [أ، ب]: (ثغر).
(٤) في [أ، هـ]: (فاحترز).
(٥) في [جـ]: (عن).
(٦) في [م]: (واحدًا).
(٧) في [م]: (قال).
(٨) في [أ، ب، جـ، م]: (قربها).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) زيادة في [م]: (تعالى).
(١١) في [هـ]: (لها).
(١٢) سقط من: [م].
(١٣) في [أ، ب، جـ]: (نجيب)، وفي [م]: (يحبُّ)، وفي [هـ]: (يخبب).
(١٤) في [هـ]: (صوب).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [م]: (فجرجت).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) في [هـ]: زيادة (بل).
(١٩) في [هـ]: (بسمة).
(٢٠) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن عبد العزيز، أخرجه أحمد (١٧٥٤٨)، وأخرج بعضه أبو نعيم في دلائل النبوة (٣٩٤)، والطبراني ٢٢/ (٦٩٤)، ووكيع في الزهد (٥٠٨)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٢١، وهناد في الزهد (١٣٣٨)، وابن ماجه (٣٣٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33915
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33915، ترقيم محمد عوامة 32412)