حدیث نمبر: 33913
٣٣٩١٣ - حدثنا سويد بن عمرو الكلبي ومالك (بن) (١) إسماعيل عن أبي عوانة عن قتادة عن أبي المليح عن عوف بن مالك الأشجعي قال: عرس بنا رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة، فافترش كل واحد منا ذراع راحلته، فانتبهت بعض الليل فإذا ناقة ⦗٤٦٠⦘ رسول اللَّه ﷺ (٢) ليس قدامها أحد، فانطلقت أطلب رسول اللَّه ﷺ فإذا معاذ بن جبل وعبد اللَّه بن قيس قائمان، قال: قلت: أين رسول اللَّه ﷺ؟ قالا: لا ندري غير أنا سمعنا صوتًا في أعلى الوادي (فإذا) (٣) مثل هزيز الرحى، فلم نلبث (إلا) (٤) يسيرا حتى أتى رسول اللَّه ﷺ فقال: "إنه أتاني الليلة آت من ربي فخيرني (بين) (٥) أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة، وأني اخترت الشفاعة"، قال: (فقلنا) (٦): يا رسول اللَّه ننشدك اللَّه والصحبة لما جعلتنا من أهل شفاعتك، قال: "فأنتم من أهل شفاعتي"، قال: فأقبلنا معانيق إلى الناس، قال: فإذا هم قد فزعوا وفقدوا نبيهم ﷺ فقال: "إنه أتاني الليلة آت من ربي فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة، وإني اخترت الشفاعة"، فقالوا: يا رسول اللَّه ننشدك اللَّه والصحبة لما جعلتنا من أهل شفاعتك، فلما (أضبوا) (٧) عليه قال: "فإني أشهد من حضر أن شفاعتي لمن مات (من أمتي) (٨) لا يشرك باللَّه شيئًا" (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرے ، چناچہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی سواری کے اگلے پاؤں پر سرہانہ لگا لیا، میں رات کے کسی حصّے میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کوئی نہیں، چناچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلا تو معاذ بن جبل اور عبد اللہ بن قیس کھڑے تھے، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟ کہنے لگے کہ ہمیں اس کے علاوہ کوئی علم نہیں کہ ہم نے وادی کے اوپر کی جانب سے ایک آواز سنی تو سنا کہ پن چکّی جیسی آواز آرہی تھی، چناچہ ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل ہونے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، ہم نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں سے کر دیجئے، آپ نے فرمایا تم میری شفاعت کے حصّہ داروں میں ہو، کہتے ہیں کہ ہم تیزی سے لوگوں کے پاس آئے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے اور نبی ﷺ کو تلاش کر رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل کیے جانے اور میری شفاعت کے درمیان اختیار دیا، اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں کر دیجئے، آپ نے فرمایا کہ میں تمام حاضرین کو گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہوگا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، هـ]: (عن أبي).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [أ، ب]: سقطت (إلا).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٦) في [أ، ب]: (فقالوا).
(٧) أي: أكروا عليه الكلام وفي [أ، ب]: (أصبوا).
(٨) سقط من: [أ، ب، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33913
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٤٠٠٢)، والترمذي (٢٤٤١)، وابن ماجه (٤٣١٧)، وابن حبان (٢١١)، والبخاري في التاريخ ١/ ١٨٥، وابن خزيمة في التوحيد ٢/ ٦٤١، والحاكم ١/ ٦٧، وعبد الرزاق (٢٠٨٦٥)، وابن أبي عاصم في السنة (٨١٨)، والطبراني ١٨/ (١٣٤) والطيالسي (٩٩٨)، وهناد في الزهد (١٨١)، والآجري في الشريعة ص ٣٤٢، وابن هنده في الإيمان (٩٢٥)، وابن الأثير ٤/ ٣١٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33913، ترقيم محمد عوامة 32410)