حدیث نمبر: 33911
٣٣٩١١ - حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن أبي الوداك عن أبي سعيد قال: كان رسول اللَّه ﷺ يخطب إلى جذع، فأتاه رجل رومي فقال: أصنع لك منبرا تخطب عليه، فصنع له منبره هذا الذي ترون، فلما قام عليه (فخطب) (١) حَنَّ الجذع حنين الناقة على ولدها، فنزل إليه رسول اللَّه ﷺ فضمه إليه فسكت، فأمر به أن (يدفن ويحفر له) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شہتیر سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، چناچہ ایک رومی شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا کیا میں آپ کے لیے ایک منبر بناؤں جس پر کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیں ؟ چناچہ اس نے آپ کے لئے یہ منبر بنایا جو آپ دیکھ رہے ہو، جب آپ اس پر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا تو وہ اس طرح رونے لگا جس طرح اونٹنی اپنے بچے پر روتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس آئے اور اس کو اپنے سینے سے لگایا تو وہ خاموش ہوگیا، پھر آپ نے اس کو ایک جگہ کھود کر دفن کرنے کا حکم فرمایا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (يخطب).
(٢) في [هـ]: (يحفر له يدفن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33911
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أخرجه الدارمي ١/ ١٨ (٣٧)، وأبو نعيم في الدلائل (٣٠٨)، وأبو يعلى (١٠٦٧)، وعبد بن حميد كما في المطالب (٧٠٨)، واللالكائي (١٤٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33911، ترقيم محمد عوامة 32408)