حدیث نمبر: 33910
٣٣٩١٠ - حدثنا وكيع عن عبد الواحد عن أبيه عن جابر قال: كان رسول اللَّه ﷺ يخطب إلى جذع نخلة، فقالت له امرأة من الأنصار: يا رسول اللَّه، إن لي غلامًا نجارًا، أفلا آمره يصنع لك منبرًا؟ قال: "بلى"، فاتخذ منبرًا فلما كان يوم الجمعة ⦗٤٥٩⦘ خطب على المنبر، قال: فأنَّ الجذع الذي كان يقوم عليه (كما يئن) (١) الصبي، فقال النبي ﷺ (٢): "إن هذا بكى لما فقد من الذكر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، چناچہ ایک انصاری عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ایک بڑھئی غلام ہے کیا میں اس کو حکم نہ دوں کہ آپ کے لئے منبر بنائے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، چناچہ اس نے منبر بنایا ، جب جمعے کا دن ہوا تو آپ نے منبر پر خطبہ دیا، چناچہ وہ شہتیر رونے لگا جس سے آپ ٹیک لگاتے تھے جیسے بچہ روتا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اس لئے رونا آگیا کہ اس کے پاس سے ذکر ختم ہوگیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (كأنين).
(٢) في [م]: ﵇.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33910
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٩)، وأحمد (١٤٢٠٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33910، ترقيم محمد عوامة 32407)