حدیث نمبر: 33909
٣٣٩٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن أبي حازم قال: أتوا سهل بن سعد (فقالوا) (١): من أي (شيء) (٢) منبر رسول اللَّه ﷺ؟ قال: ما بقي أحد من الناس أعلم به مني، قال: هو من أثل الغابة، وعمله فلان مولى فلانة لرسول اللَّه ﷺ، وكان رسول اللَّه ﷺ يستند إلى جذع في المسجد يصلي إليه إذا خطب، فلما اتخذ المنبر فقعد عليه حَنَّ الجذع، قال: فأتاه رسول اللَّه ﷺ فوطده، -وليس في حديث أبي حازم (فوطده) (٣) - حتى سكن (٤).
مولانا محمد اویس سرور

ابو حازم فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت سہل بن سعد کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز کا تھا ؟ فرمانے لگے کہ مجھ سے زیادہ اس کو جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا، فرمایا کہ وہ جنگل کے جھاؤ کے درخت کا تھا، اور اس کو فلاں عورت کے آزاد کردہ غلام فلاں شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک شہتیر سے ٹیک لگاتے اور جب خطبہ دیتے تو اس کے بعد اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے، جب منبر تیار ہوا اور آپ اس پر بیٹھ گئے تو وہ شہتیر رونے لگا، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کو زمین میں ٹھہرایا یہاں تک کہ اس کو سکون ہوگیا، اور ابو حازم کی روایت میں ” فوطدہ “ کے الفاظ نہیں ہیں۔ “

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) زيادة (فوطده) من: [جـ، م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33909
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٧)، ومسلم (٥٤٤)، وانظر: سنن الدارمي (١٥٦٥)، ومعجم الطبراني (٥٩٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33909، ترقيم محمد عوامة 32406)