مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٩٠١ - حدثنا أحمد بن (عبد اللَّه) (١) قال: ثنا زهير قال: ثنا أبو خالد يزيد الأسدي قال: حدثني عون بن أبي جحيفة السوائي عن عبد الرحمن بن علقمة (عن) (٢) عبد الرحمن بن أبي عقيل (قال) (٣): انطلقنا في وفد فأتينا رسول اللَّه ﷺ فقال قائل منا: يا رسول اللَّه، ألا سألت ربك ملكا كملك سليمان؟ فضحك، وقال: "لعل لصاحبكم عند اللَّه أفضل من ملك سليمان، إن اللَّه لم يبعث نبيا إلا أعطاه دعوة، فمنهم من اتخذ بها (دنيا) (٤)، (فأعطيها) (٥) ومنهم من دعا (بها) (٦) على قومه (إذ) (٧) عصوه فأهلكوا، وإن اللَّه أعطاني دعوة فاختبأتها عند ربي شفاعة لأمتي يوم القيامة" (٨).عبد الرحمن بن ابی عقیل فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنے رب سے سلیمان علیہ السلام کی سلطنت جیسی سلطنت کا سوال نہیں کیا ؟ آپ ہنسے اور فرمایا شاید تمہارا ساتھی اللہ کے ہاں سلیمان علیہ السلام کی سلطنت سے افضل ہو، بیشک اللہ نے جس نبی کو مبعوث فرمایا اس کو ایک دعا عطا فرمائی، بعض نے دنیا کو اختیار کیا تو اللہ نے ان کو عطا فرما دی، اور بعض نے اپنی قوم کی نافرنی کے وقت اس کو اپنی قوم کی بد دعا میں استعمال کیا، چناچہ وہ ہلاک کردیے گئے، اور اللہ نے مجھے دعا عطا فرمائی تو میں نے اس کو اپنے رب کے ہاں اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کرلیا۔