مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في التخلف في العشاء والفجر وفضل حضورهما باب: عشاء اور فجر کی نماز میں سستی سے اجتناب کا حکم اور ان میں حاضر ہونے کی فضیلت
حدیث نمبر: 3390
٣٣٩٠ - حدثنا عبدة عن (محمد بن عمرو عن) (١) محمد بن إبراهيم التيمي (عن أبي عمرة) (٢) الأنصاري قال: جئت وعثمان (جالس) (٣) في المسجد صلاة العشاء الآخرة، فجلست إليه، فقال عثمان: شهود صلاة الصبح كقيام (ليلة) (٤) وصلاة العشاء كقيام نصف ليلة (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی عمرہ انصاری کہتے ہیں کہ میں مسجد میں حاضر ہوا تو حضرت عثمان عشاء کی نماز کے وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ فجر کی نماز میں حاضر ہونا پوری رات عبادت کی طرح ہے اور عشاء کی نماز میں حاضر ہونا آدھی رات عبادت کی طرح ہے۔
حواشی
(١) زيادة من [أ، ب، ك، د].
(٢) كذا في النسخ، ولعل الصواب: (ابن أبي عمرة).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [ب]: (الليل).