مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٨٩٨ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: سئل: هل كان رسول اللَّه ﷺ يرفع يديه؟ قال: نعم، شكا الناس (١) ذات جمعة فقالوا: يا رسول اللَّه قحط المطر، وأجدبت الأرض، وهلك المال، قال: فرفع يديه حتى رأيت (٢) إبطيه، وما في السماء قزعة سحاب، فما صلينا حتى أن الشاب القوي القريب المنزل ليهمه الرجوع إلى منزله، (قال) (٣): فدامت (٤) جمعة، قال: فقالوا: يا رسول اللَّه، ⦗٤٥٤⦘ تهدمت الدور واحتبست الركبان، قال: فتبسم رسول اللَّه ﷺ (٥) من سرعة ملالة ابن آدم فقال: "اللهم حوالينا (٦) لا علينا"، قال: فأصحت السماء (٧).حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس سے سوال پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! ایک جمعہ لوگوں نے شکایت کی اور کہا یا رسول اللہ ! بارش کا قحط ہوگیا ہے اور زمین خشک ہوگئی اور مال ہلاک ہوگیا ہے، آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغل دیکھے، اور اس وقت آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نہیں تھا، ہم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی کہ جوان مضبوط جسم کے آدمی کو بھی گھر پہنچنے کی فکر لگی ہوئی تھی، کہتے ہیں کہ ایک جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، پھر لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! گھر گرگئے اور سوار محبوس ہوگئے، راوی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم کے اتنی جلدی اکتا جانے پر مسکرائے، اور فرمایا اے اللہ ! ہمارے ارد گرد برسائیے اور ہم پر نہ برسائیے، کہتے ہیں کہ اس پر آسمان صاف ہوگیا۔