حدیث نمبر: 33894
٣٣٨٩٤ - حدثنا قراد (أبو) (١) نوح قال: ثنا يونس بن أبي إسحاق عن أبي (بكر) (٢) (بن) (٣) أبي موسى عن أبيه قال: خرج أبو طالب إلى الشام وخرج معه رسول اللَّه ﷺ وأشياخ من قريش، فلما أشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم، فخرج إليهم الراهب، وكانوا قبل ذلك يمرون (٤) فلا يخرج إليهم ولا يلتفت ⦗٤٥٢⦘ (إليهم) (٥)، (فهم) (٦) يحلون رحالهم فجعل يتخللهم حتى جاء فأخذ بيد رسول اللَّه ﷺ فقال: هذا سيد العالمين، هذا رسول رب العالمين، هذا (يبعثه) (٧) اللَّه رحمة للعالمين، فقال (له) (٨) أشياخ من قريش: ما علمك؟ فقال: إنكم حين أشرفتم من العقبة لم يبق شجر ولا حجر إلا خر ساجدا ولا (يسجدون) (٩) إلا لنبي (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

ابوبکر بن ابی موسیٰ راوی ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے اور قریش کے کچھ بزرگ بھی، جب وہ راہب کے قریب پہنچے، تو اپنے کجاوے کھولے ، راہب ان کے پاس گیا اور اس سے پہلے وہ اس کے پاس سے گزرتے تو نہ وہ نکل کر ان کے پاس آتا نہ ان کی طرف متوجہ ہوتا، چناچہ وہ اپنے کجاوے کھول رہے تھے اور وہ ان کے درمیان سے ہوتا ہوا آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا کہ یہ جہانوں کا سردار ہے، یہ رب العالمین کا رسول ہے، اس کو اللہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجیں گے، قریش کے بزرگوں نے اس سے کہا کہ آپ کو کیسے علم ہے ؟ اس نے کہا کہ تم گھاٹی سے جب چڑھے ہو تو کوئی پتھر اور درخت ایسا نہیں تھا جو سجدے میں نہ گرگیا ہو، اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کرتیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (عن).
(٢) في [جـ، م]: (زكريا).
(٣) في [جـ، ط]: (عن).
(٤) في [هـ]: زيادة (به).
(٥) سقط من: [م]، وفي [هـ]: زيادة (قال).
(٦) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٧) في [أ، ب]: (بعثه).
(٨) سقط من: [أ، ب، م].
(٩) في [س، هـ]: (يسجد).
(١٠) معلول، فيه أوهام، أخرجه الترمذي (٣٦٢٠)، والحاكم ٢/ ٦١٥، والبزار (٣٠٩٦)، وابن حبان في الثقات ١/ ٤٢، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٢٤، وأبو نعيم في دلائل النبوة (١٩)، والخطيب في تاريخ بغداد ١٠/ ٢٥٢، وابن عساكر ٣/ ٤، وانظر: تاريخ الإسلام للذهبي ١/ ٥٥ والإصابة ١/ ٣٥٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33894
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33894، ترقيم محمد عوامة 32391)