حدیث نمبر: 33887
٣٣٨٨٧ - حدثنا مروان عن عوف عن أبي رجاء قال: ثنا عمران بن الحصين قال: كنا مع رسول اللَّه ﷺ في سفر فشكا الناس إليه العطش، فدعا فلانًا ودعا عليًا، (فقال) (١): "اذهبا (فابغياني) (٢) الماء"، فانطلقا فتلقيا امرأة معها مزادتان أو سطحيتان، قال: فجاءا بها إلى النبي ﷺ (٣) فدعا النبي ﷺ (٤) بإناء فأفرغ فيه من ⦗٤٤٩⦘ أفواه المزادتين أو السطحيتين ثم أوكأ أفواههما، وأطلق العَزَالى، ونودي في الناس: أن اسقوا واستقوا، قال: فسقى من سقى (واستقى من استقى) (٥)، قال: وهي قائمة تنظر إلى ما يصنع بمائها، قال: فواللَّه لقد أقلع عنها حين أقلع وإنه ليخيل إلينا أنها أشد (ملاءا) (٦) منها (حيث) (٧) ابتدأ فيها فقال رسول اللَّه ﷺ: "واللَّه ما رزأناك من ماءك شيئًا، ولكن اللَّه سقانا" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگوں کو پیاس کی شکایت ہوئی ، آپ نے فلاں کو اور علی رضی اللہ عنہ کو بلایا ، اور فرمایا کہ جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو، چناچہ وہ چلے اور انہیں ایک عورت ملی جس کے پاس دو مٹکے یا مشکیزے تھے، وہ اس عورت کو نبی ﷺ کے پاس لائے ، نبی ﷺ نے ایک برتن منگایا اور اس میں مشکیزوں یا مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا پھر ان کے منہ بند کردیے اور رسّی چھوڑی، اور لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ پانی لے لو اور بھر لو، چناچہ جس نے پینا تھا پی لیا اور جس نے بھرنا تھا بھر لیا، اور وہ کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی کا کیا کیا جار ہا ہے، کہتے ہیں واللہ ! اس کو اس طرح چھوڑا گیا کہ ہمیں گمان ہو رہا تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ ! ہم نے تمہارے پانی سے کچھ کم نہیں کیا بلکہ ہمیں اللہ نے پلایا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٢) في [هـ]: (فابغيا لي).
(٣) في [م]: ﵇.
(٤) في [م]: ﵇.
(٥) في [أ، ب، جـ]: (واستستقى من استسقى).
(٦) في [هـ]: (ملاءة).
(٧) في [هـ]: (حين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33887
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٨)، ومسلم (٦٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33887، ترقيم محمد عوامة 32384)