مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٨٨٤ - حدثنا عبيدة بن حميد عن الأسو بن قيس عن نبيح بن عبد اللَّه (العنزي) (١) عن جابر بن عبد اللَّه قال: سافرنا مع رسول اللَّه ﷺ فحضرت الصلاة، فجاء رجل (بفضلة) (٢) في إداوة فصبه في قدح، قال: فتوضأ رسول اللَّه ﷺ (٣)، ثم إن القوم أتوا بقية الطهور وقالوا: تمسحوا تمسحوا، قال: فسمعهم رسول اللَّه ﷺ فقال: "على رسلكم"، قال: فضرب رسول اللَّه ﷺ يده في (القدح) (٤) في جوف الماء ثم قال: "اسبغوا الطهور"، قال: فقال جابر بن عبد اللَّه: والذي أذهب بصره (٥)، لقد رأيت الماء يخرج من بين أصابع رسول اللَّه ﷺ، فما (رفع) (٦) يده حتى توضؤوا أجمعون، (قال) (٧) الأسود: (أحسبه) (٨) قال: كنا مائتين أو زيادة (٩).حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو نماز کا وقت ہوگیا، ایک آدمی ایک برتن میں بچا ہوا پانی لایا، اس نے اس کو ایک پیالے میں ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا پھر لوگ اپنا وضو کا بچا ہوا پانی لانے لگے اور کہنے لگے کہ مسح کرلو مسح کرلو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سن لیا، فرمایا کہ ٹھہر جاؤ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پانی میں رکھا اور فرمایا کہ کامل وضو کرو، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس نے میری بصارت لے لی، میں نے پانی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے نکلتے ہوئے دیکھا، آپ نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا یہاں تک کہ سب نے وضو کرلیا، اسود راوی فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ ہم دو سو یا اس سے زیادہ تھے۔