حدیث نمبر: 33880
٣٣٨٨٠ - حدثنا ابن نمير عن الأجلح عن (ذيال) (١) بن حرملة عن جابر بن عبد اللَّه قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ من سفر حتى إذا (دفعنا) (٢) إلى حائط من حيطان بني النجار إذا فيه جمل قطم -يعني هائجًا-، لا يدخل (أحد الحائط) (٣) إلا شد عليه، قال: فجاء النبي ﷺ حتى أتى الحائط فدعا البعير، فجاء واضعا مشفره (في الأرض) (٤) حتى برك بين يديه فقال النبي ﷺ: "هاتوا خطامًا"، فخطمه ودفعه إلى أصحابه، ثم التفت إلى الناس فقال: "إنه ليس شيء بين السماء والأرض ⦗٤٤٦⦘ إلا ويعلم أني رسول اللَّه غير عاصي الجن والإنس" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر سے واپس آئے، یہاں تک کہ جب بنو نجار کے باغ تک پہنچے تو اس میں ایک وحشی اونٹ تھا، جو بھی اس باغ میں داخل ہوتا اس پر حملہ کردیتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور اونٹ کو بلایا، وہ زمین میں اپنا جبڑا گھسیٹتا ہوا آیا اور اس نے آپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نکیل لاؤ، آپ نے اس کو نکیل ڈالی اور اس کے مالکوں کے حوالے کردیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان کوئی بھی ایسا نہیں جو یہ نہ جانتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے نافرمان انسانوں اور جنوں کے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (رمال).
(٢) في [ب]: (رفعت).
(٣) في [م]: (الحائط أحد).
(٤) في [جـ]: (بالأرض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33880
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ذيال بن حرملة صدوق، أخرجه أحمد (١٤٣٣٣)، وعبد بن حميد (١١٢٢)، والدارمي (١٨)، وأبو نعيم في الدلائل (٢٧٩)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٢٨، وابن حبان في الثقات ٤/ ٢٢٣، وأخرجه الطبراني (١٢٧٤٤) من حديث ابن عباس.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33880، ترقيم محمد عوامة 32377)