حدیث نمبر: 33872
٣٣٨٧٢ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن أنيس بن أبي يحيى عن إسحاق بن سالم عن أبي هريرة قال: خرج علي رسول اللَّه ﷺ يومًا فقال: "ادع لي أصحابك"، -يعني أصحاب الصفة-، فجعلت أتبعهم رجلًا رجلًا أوقظهم حتى جمعتهم، فجئنا باب رسول اللَّه ﷺ فاستأذنا، فأذن لنا، قال أبو هريرة: ووضعت بين أيدينا صحفة فيها صنيع قدر (مدٍ من) (١) شعير، قال: فوضع رسول اللَّه ﷺ يده ⦗٤٤٣⦘ عليها، فقال: "خذوا بسم اللَّه"، فأكلنا ما شئنا، ثم رفعنا أيدينا، فقال رسول اللَّه ﷺ حين وضعت الصحفة: "والذى نفس محمد بيده ما أمسى في آل محمد طعام غير شيء ترونه"، فقيل لأبي هريرة: قدركم كانت حين (فرغتم؟) (٢) قال: مثلها (٣) حين وضعت إلا أن فيها أثر الأصابع (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ میرے پاس اپنے ساتھیوں کو بلاؤ یعنی اصحاب صفہ کو، میں ایک ایک آدمی کو تلاش کرنے لگا، اور ان کو بیدار کر کے جمع کرنے لگا، پھر ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئے اور اجازت چاہی آپ نے اجازت دے دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک پیالہ رکھا گیا جس میں ایک مد جو کے بقدر کھانا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ اللہ کے نام پر لے لو، ہم نے جتنا چاہا کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ پیالہ رکھا گیا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے آل محمد میں اس کے علاوہ کوئی کھانا نہیں جو تم دیکھ رہے ہو، حضرت ابوہریرہ سے کہا گیا کہ جب تم فارغ ہوئے اس وقت کتنا بچا ہوا تھا ؟ انہوں نے فرمایا اتنا ہی جتنا رکھتے ہوئے تھا، مگر اس میں انگلیوں کے نشانات تھے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (مدى).
(٢) في [أ، ب]: (فزعم).
(٣) زيادة في [أ، ب]: (حين فزعم قال: مثلها).
(٤) مجهول؛ لجهالة إسحاق بن سالم، أخرجه ابن سعد ١/ ٢٥٥، والطبراني في الأوسط (٢٩٠٧)، والخطيب في الموضح ١/ ٦٢، والفريابي في دلائل النبوة (١٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33872
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33872، ترقيم محمد عوامة 32369)