مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
٣٣٨٧١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي عن جابر قال: توفي أو استشهد عبد اللَّه بن عمرو بن حرام، فاستعنت برسول اللَّه ﷺ على غرمائه أن يضعوا من (دينهم) (١) شيئًا فأبوا، فقال لي رسول اللَّه ﷺ: "اذهب فصنف تمرك أصنافا ثم أعلمني"، قال: ففعلت (فجعلت) (٢) العجوة على حدة وصنفته أصنافًا، ثم أعلمت رسول اللَّه ﷺ قال: فجاء فقعد على أعلاه أو في وسطه ثم قال: "كِلْ للقوم"، فكلت لهم حتى وفيتهم و (بقي) (٣) تمري كأنه لم ينقص منه شيء (٤).حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن حرام فوت ہوئے، یا فرمایا کہ شہید ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے قرض خواہوں پر مدد چاہی کہ وہ اپنے قرضے سے کچھ چھوڑ دیں، انہوں نے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور اپنی کھجوروں کی ڈھیریاں لگاؤ اور پھر مجھے بتاؤ، کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا اور عجوہ کو علیحدہ کیا اور علیحدہ علیحدہ ڈھیریاں لگا دیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ان کے اوپر کی طرف یا ان کے درمیان میں بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ لوگوں کے لئے وزن کرو، میں نے وزن کیا یہاں تک کہ ان کو پورا پورا دے دیا، اور میری کھجوروں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔